خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 316 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 316

خطبات طاہر جلد 14 316 خطبہ جمعہ 5 مئی 1995ء ہو۔وہ اس عالم کے ذرہ ذرہ پر اپنی نظر رکھتا ہے لیکن انسان نہیں رکھ سکتا۔وہ جانتا ہے کب اس نظام کو توڑ دے گا اور قیامت برپا کر دے گا اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ ایسا کب ہوگا۔سو وہی خدا ہے جو ان تمام وقتوں کو جانتا ہے۔(اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 373) اس میں جو علِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ کی گفتگو پر حضور نے جو روشنی ڈالی ہے اس سلسلے میں میں کچھ مزید باتیں آپ کے سامنے اس مضمون کو کھولنے کے لئے آج رکھنا چاہتا ہوں۔غیب سے متعلق جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سوا کسی نے یہ عظیم نکتہ بیان نہیں فرمایا کہ اپنی ذات کو (اس کی ذات کو) اس کے سوا کوئی نہیں جانتا وہ غیب میں ہے۔شہادۃ کے متعلق یہ بات فرمائی کہ اس سے باہر اگر اس کی نظر سے دیکھا جائے تو ہر چیز شاہد ہی ہے، موجود ہے آنکھوں کے سامنے ہے اور کہیں بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ، کوئی پردہ نہیں ، کوئی اخفا نہیں، کوئی ایسا سایہ نہیں ہے جس میں کوئی دیکھنے والا کوئی چیز نہ دیکھ سکے۔تو خدا کے زاویئے سے دیکھا جائے تو ہر چیز شہادۃ ہے، کوئی عالم اخفاء ہے ہی نہیں۔انسان کے زاویے سے دیکھیں تو سب سے پہلا اخفاء خدا کی ذات کا ہے اور اس اخفاء کا بھی اس کو علم ہے۔یہ دو باتیں بڑی واضح ہو گئیں لیکن جس کو انسان شہادۃ سمجھتا ہے اس میں انسان حقیقت میں عالم الشهادة بھی نہیں ہے اور چونکہ تو حید کا مضمون بیان ہو رہا ہے اس لئے اس مضمون کا یہ مطلب ہے کہ عالم الغیب تو تم سمجھ لو گے کہ وہی ہے لیکن شاید تمہیں یہ بات سمجھ نہ آئے کہ عالم الشهادة بھی وہی ہے تم نہیں ہو۔تمہیں وہم ہے کہ تم عالم الشهادة ہو اور عالم الغيب بى عالم الشهادة ہو سکتا ہے۔یہ ایک گہرا منطقی نکتہ ہے یا فلسفیانہ نکتہ ہے کہ جس کے تعلق کو آپ سمجھیں تو پھر اس بات کی حقیقت سمجھ آجائے گی۔شهادة“ دراصل سطح کے مطالعہ کو کہتے ہیں جو سامنے آجائے اور ہر سطح کے پیچھے کچھ چیزیں ہوتی ہیں اسے غیب کہتے ہیں اور اگر صرف سطحی مطالعہ پر بنا کی جائے تو جو نتیجہ نکلتا ہے۔ہوسکتا ہے اسی کے غیب میں اس کا نقیض موجود ہو یعنی جو آپ سطح پر دیکھ رہے ہیں اس نظر کو رد کرنے والی باتیں اس کے پیچھے خفی ہوں۔جو نتیجہ آپ سطحی نظر سے نکالتے ہیں ہو سکتا ہے اس کے پیچھے کچھ ایسی باتیں ہوں جو