خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 315
خطبات طاہر جلد 14 315 خطبہ جمعہ 5 مئی 1995ء تصور کو دل میں لا ہی نہیں سکتی کیونکہ اس کا روز مرہ کا تجربہ اسے کہیں بھی کمال سے آشنا نہیں کرتا اور جب اس کی ڈکشنری میں ہی لفظ کمال نہیں ہے کیونکہ اپنے تجربے میں اس نے کہیں کمال نہیں دیکھا تو معلوم ہوتا ہے یہ باہر سے اترا ہوا ایک مضمون ہے اور کامل ذات ہی نے اس کے دل میں پیدا کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو بات فرما رہے ہیں وہ یہ ہے کہ کامل کا جو تصور انسان باندھ سکتا ہے اس تصور سے بھی بالا۔اس مضمون میں لامتناہی طور پر جو کمال ابھرتے چلے جائیں گے وہ سب اللہ کے ہیں اور اس پہلو سے علمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ کا ایک اور مضمون سمجھ آجاتا ہے جو اس کے بعد آئے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ جوفرمایا کہ وہ علِمُ الْغَيْبِ ہے کہ وہ غیب کو جانتا ہے اس میں ایک ایسی معرفت کا نکتہ بیان فرمایا ہے جو اس سے پہلے کبھی خدا کے اسماء پر غور کرنے والے نے نہیں لکھا۔آپ فرماتے ہیں: یعنی اپنی ذات کو آپ ہی جانتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے تصور کے کمال کے سب کنارے انسانی دسترس سے باہر پڑے ہوئے ہیں۔وہ جو پہلی بات تھی اس کا دراصل اس بات سے گہرا تعلق ہے۔کمال کا جو تصور آپ باندھتے چلے جائیں ایک مقام تک پہنچ کر وہ ٹھہرے گا اس لئے کہ انسانی سوچ کامل ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ انسان خود نا کامل ہے اور خدا کی ذات اس سمت میں آگے نظروں سے غائب ہوتی ہوئی دکھائی دے گی جیسے کوئی بہت بلند اور ارفع چیز ہے۔اس کو آپ دیکھیں تو کچھ دیر تک دکھائی دیتی ہے پھر وہ نظروں سے غائب ہو جاتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو شروع میں توحید کی تعریف میں مضمون بیان فرمایا اس کا از خود اس مضمون سے تعلق قائم ہو گیا جو آپ غیب کے حوالے سے بیان فرما رہے ہیں۔آگے کیا ہے وہ اپنی ذات کو جو غیب میں ہے خود ہی جانتا ہے اور اس کے سوا اس غیب کا کوئی علم نہیں رکھتا اس کی ذات پر کوئی احاطہ نہیں کر سکتا اس کا ایک طبعی نتیجہ ہے۔فرمایا: ” ہم آفتاب اور ماہتاب اور ہر ایک مخلوق کا سرا پا دیکھ سکتے ہیں مگر خدا کا سرا پا دیکھنے سے قاصر ہیں۔پھر فرمایا کہ وہ عالم الشھادہ ہے یعنی کوئی چیز اس کی نظر سے پردہ میں نہیں ہے۔یہ جائز نہیں کہ خدا کہلا کر پھر علم اشیاء سے غافل