خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 26
خطبات طاہر جلد 14 26 26 خطبہ جمعہ 13 جنوری 1995ء بڑی بڑی مصیبتیں ٹوٹ پڑتی ہیں۔لیکن وہ چھوٹی سی بات ایک شخص کی انا کا مسئلہ ہوتا ہے۔وہ کہتا ہے یہ ہوتا کون ہے میرے سامنے یہ کہنے والا اور یہ انا جو ہے یہ ایسی دھو کے والی چیز ہے کہ بعض دفعہ بعض لڑائیاں اس بات پر ہوئی ہیں کہ اس نے مجھے جھوٹا کہہ دیا ہے یہ کون ہوتا ہے مجھے جھوٹا کہنے والا میں کہاں سے جھوٹا ہو گیا اور ایک دفعہ میں نے شاید پہلے بھی ذکر کیا تھا یا نہیں۔ایک صاحب جن کو میں جانتا تھا کہ بے حد جھوٹے ہیں ان کا کسی سے مقدمہ ہوا اور انہوں نے میری طرف وہ حوالہ بھیجا اور خلاصہ یہ تھا کہ دیکھیں اس نے مجھے جھوٹا کہا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ میں جھوٹا نہیں ہوں۔اب میں اس کو کیا جواب دیتا؟ جس کا جھوٹ مشہور تھا سب جانتے تھے کہ وہ جھوٹا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ انانیت اتنا دھوکہ دے دیتی ہے انسان کو کہ خود اپنے آپ سے بھی غافل ہو جاتا ہے اور جو اپنے سے غافل ہوا وہ دنیا جہان سے غافل ہو جاتا ہے اور امر واقعہ یہ ہے کہ جو اللہ سے غافل نہ ہو وہ اپنے آپ سے غافل ہو ہی نہیں سکتا۔یہی مضمون ہے جو قرآن کریم نے ہمیں سمجھایا ہے: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللهَ فَانْسُهُمْ أَنْفُسَهُمْ أُولَبِكَ هُمُ الْفُسِقُونَ (الحشر : 20، 19 ) و دیکھو ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے خدا کو بھلا دیا فَأَنْسُهُمْ أَنْفُسَهُمْ تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ نے ان کو اپنے آپ کو بھلا دیا۔اب اپنے آپ کو کون بھولا کرتا ہے سوائے اس پاگل کے جس کو ہوش ہی نہ رہے تو یہاں اپنے آپ کو بھلانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے حال سے بے خبر ہو جاتے ہیں ، ان کو اپنے نقائص کا علم ہی نہیں رہتا اور وہ ایک غفلت کی حالت میں زندگی بسر کرتے ہیں۔اپنی ذات سے زیادہ قریب اور انسان کس کے ہوسکتا ہے مگر اپنی ذات میں رہتے ہوئے اپنی ذات سے بے خبر رہتے ہیں اور ان کو پتا ہی نہیں میں کون ہوں اور میں کیا ہورہا ہوں۔تو یہ بہت بڑی مصیبت ہے اور یہ یادرکھیں کہ اللہ سے سب خلق کا تعلق ہے جو خدا کے شعور میں رہتا ہے وہ اپنے شعور میں بھی رہتا ہے۔جو خدا کو بھلا دیتا ہے خدا کا شعور اس کے دل سے اٹھ جاتا ہے اس سے اپنے نفس کا بھی شعور اٹھ جاتا ہے تو خلق کا بھی یہی حساب ہے۔تمام وہ خلق جو اللہ کے تعلق سے پیدا ہوتے ہیں وہ دنیا کے تعلقات پر بھی اسی طرح ،