خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 297 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 297

خطبات طاہر جلد 14 297 خطبہ جمعہ 28 اپریل 1995ء پس آنحضرت ﷺ کو جو سارے دوسرے عالم پر فوقیت ملی ، انبیاء یہ بھی فوقیت ملی اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ آپ کا ذاتی نوراپنی ذات میں ہی اتنا روشن تھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آسمان سے شعلہ نور اس پر نہ بھی اترتا تب بھی وہ بھڑک اٹھنے کے لئے تیار تھا۔تو ہر شخص کی اپنی فراست کا ایک مقام ہے اللہ کا نور اس مقام کو روشن کر دیتا ہے۔اگر کسی آنکھ کی بینائی کم ہو تو اس کو بھی سورج کا نورہی روشن کرتا ہے۔اگر کسی کی آنکھ کی بینائی زیادہ ہو تو اس کو بھی تو سورج کا نور ہی روشن کرتا ہے لیکن فرق ہے۔ایک روشن بینائی والا انسان اس نور سے وہ فائدہ اٹھاتا ہے جو ایک کم بینائی والا انسان اٹھا ہی نہیں سکتا۔تو اس لئے یہ کہ دینا کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ نے یہ فتوی صادر فرمایا ہے کہ ہر متقی خدا کے نور سے دیکھتا ہے اس لئے ان کی رائے میں اختلاف ہو ہی نہیں سکتا اور ہر متقی کا یہ دعوی ہوگا کہ میری رائے درست ہے، یہ ساری باتیں نا کبھی کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔اگر آپ گہرائی میں اتر کے معاملات کی ، رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کی روشنی میں قرآن کی روشنی میں سارا مسئلہ سمجھنے کی کوشش کریں تو کوئی بھی ابہام باقی نہیں رہتا۔پس آپ نے فیصلہ تقویٰ سے کرنا ہے یہ ہے وہ بنیا د اور چونکہ آپ عالم الغیب اور عالم الشهادہ نہیں ہیں اگر تقویٰ میں رہتے ہوئے غلطی ہوتی ہے تو اس کی سزا خدا آپ کو نہیں دے گا۔ایک شخص بے چارہ نظر کی کمزوری کی وجہ سے ٹھوکر کھاتا ہے اور کہیں گر جاتا ہے تو نقصان تو اس کو ہوتا ہے مگر سزا نہیں ملتی۔ایک شخص اگر جان کے بالا رادہ کسی گڑھے کی طرف جاتا ہے اور اپنے ساتھ دوسروں کو بھی لے بیٹھتا ہے تو پھر اس کو سزا بھی ملے گی، نقصان تو پہنچے گا لیکن سزا بھی ملے گی۔تو سزا اور طبعی نقصان دو الگ الگ چیزیں ہیں۔پس ایسا شخص جو زیادہ بصیرت نہ رکھتا ہو وہ متقی بھی ہوتو بعض دفعہ غلطی سے غلط فیصلے کر سکتا ہے مگر خدا کی طرف سے اس پر پکڑ نہیں آئے گی اور من حیث الجماعت جن کی تربیت اللہ نے اپنے ایک مرسل اور مہدی کے ذریعے کی ہو۔بحیثیت جماعت ان کی اکثریت خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ تقویٰ پر قائم رہتی ہے اور یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ تقویٰ پر قائم رہے گی اور یہی وجہ ہے کہ ان کے انتخاب کو خدا کا انتخاب کہا جاتا ہے۔اگر یہ توقع درست نہ ہوتو وہ نتیجہ بھی غلط ہو جائے گا جو ہم نکالتے ہیں کہ چونکہ متقیوں کی جماعت اپنا خلیفہ چنتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس انتخاب پر صاد ہو جاتا ہے کیونکہ یہاں ان کا نور اور خدا کا نور ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔وہی نور