خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 285
خطبات طاہر جلد 14 285 خطبہ جمعہ 21 اپریل 1995ء لطف ہر حال میں ان میں موجود ہے، ہر حالت میں وہ لطف اٹھا رہے ہیں کیونکہ وہ احسان اپنی ذات میں ایک ایسا حسن ہے کہ اس سے احسان کرنے والا خود بھی لطف اندوز ہوتا ہے بلکہ زیادہ لطف اندوز ہوتا ہے ۔ کوئی ہے کیونکہ سب سے زیادہ حسن کو وہ جانتا ہے جس کے اندر سے حسن پھوٹ رہا ہے۔ اس تعلق میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عالم الغیب کی ایک ایسی تفسیر فرمائی جس کی مثال آپ کو کہیں اس سے پہلے دکھائی نہیں دے گی ۔ آپؐ نے فرمایا عالم الغیب کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنی ذات کو ، بس خود وہی جانتا ہے کہ میں کیا ہوں ۔ ہر دوسرے سے غیب میں ہے۔ وہ اللہ سے کو، غیب میں نہیں۔ تو جس کی نظر اپنے حسن پر ہمیشہ ہو اس کو لہو ولعب کی ضرورت کیا ہے کیونکہ حسن میسر ہو تو کسی اور چیز کی ضرورت نہیں رہتی ۔ وقت اپنی ذات میں مجسم لطف بن جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ جب فرماتا ہے کہ ہمیں تعین کی ضرورت نہیں ہے کہ تعبین بن کر زمین و آسمان کو پیدا کرتے۔ تو دراصل خدا چونکہ حسن ہے اور حسن ہی کا مجموعہ صفات ہے اس پہلو سے جب اس کی اپنے حسن پر نظر رہتی ہے تو ہر دوسری بد زیبی اور کراہت جو باہر سے دکھائی دیتی ہے اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی اور اس میں اس کا دوام ہے۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک عجیب عارفانہ نکتہ ہمارے ہاتھوں میں تھما دیا اس پر غور کریں تو خدا تعالیٰ کی ذات وصفات اور ان صفات کا وقت سے تعلق سمجھ آجاتا ہے ۔ وہ ایک ایسا حسن ہے جس پر کسی اور کی نظر نہ ہو تو تب بھی فرق نہیں پڑتا۔ وہ مجسم اپنے حسن میں مگن ذات ہے۔ اپنے حسن سے اس کا علاقہ ایسا ہے کہ اس کو کسی اور طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَعِبِينَ ہم نے جو کچھ بھی آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اسے لاعب کے طور پر پیدا نہیں کیا یعنی اپنا وقت گزارنے کی خاطر کوئی بہتر اپنا مصرف نہیں تھا اور کوئی کام نہیں تھا اس لئے ہم زمین و آسمان کو پیدا نہیں کیا۔ لَوْارَدْنَا أَنْ نَتَّخِذَ لَهُوَ الَّا تَّخَذْتُهُ مِنْ لَّدُنَّا إِنْ كُنَّا فَعِلِينَ (الانبیاء :18) ۔ اگر ہم نے کوئی لہو پسند کی ہوتی تو ہماری ذات میں سب کچھ ہے۔ اپنی ہی ذات سے وہ چیز پیدا کرتے کسی اور کے حوالے کی ضرورت ہی کوئی نہیں تھی۔ پس یہ وہ غیب کو جاننے کا مضمون اس آیت کو سمجھنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب فرمایا کہ وہ غیب کو جانتا ہے۔ اول