خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 284 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 284

خطبات طاہر جلد 14 284 خطبہ جمعہ 21 اپریل 1995ء جو لطف ہے اس میں کوئی پہجان نہیں ہے۔یہ ایک دائمی نجات کا لطف ہے۔حسن واحسان کا ایک ایسا جلوہ ہے جسے ہمیشگی حاصل ہے اور ہمیشہ اسی طرح ہی یہ جلوہ خدا تعالیٰ کی مخلوقات پر ظاہر ہوتارہتا ہے۔پس جنتوں کا دوام بھی اسماء باری تعالیٰ پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے۔کیوں خدا کے بعض ایسے بندے ہیں جن کے متعلق فرماتا ہے۔خُلِدِينَ فِيهَا (البقرہ: 163) نعمتوں اور جنتوں میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے کیونکہ اس سے پہلے اس دنیا میں انہوں نے اپنی صفات کو خدا کی ہمیشگی کی صفات کے قریب تر کر دیا تھا اور خدا کی پیشگی کی صفات اس کے حسن و احسان کی صفات کے ساتھ ایک جان ہیں۔ایک ہی چیز کے دو نام ہیں اور یہ حسن و احسان عارضی چیزوں سے اتنا بالا ہے۔وہ چیزیں جو وقت کی غلام ہیں کہ ان کے ہونے نہ ہونے سے اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا یہ اپنی ذات میں جاری رہتا ہے۔پس اگر آپ خدا کے ایسے محسن بندے نہیں کہ ہر ضرورت کو پورا کرنے پر آپ کو لطف آئے اور ایسا لطف آئے جیسے گویا آپ کی ضرورت پوری ہو رہی ہے۔یہ پیغام ہے اس مثال کا جو سمجھیں تو پھر اسماء باری تعالیٰ پر غور کا کچھ لطف بھی ہے اور اسماء باری تعالیٰ پر غور سے فائدہ بھی ہے۔ورنہ خالی زبان سے رٹ لینا کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتا اور واقعہ یہ ہے کہ انبیاء اسی سے طاقت پاتے ہیں ،اسی سے ان کو استقامت ملتی ہے، ان کو احسان کا مسلسل لطف رہتا ہے۔یہ نہیں کہ وہ بڑی مصیبت میں مبتلا ہیں۔دنیا ان کو مصیبت میں مبتلا دیکھتی ہے لیکن اللہ کا قرب نصیب ہونے کی وجہ سے ان کو احسان کا لطف آتا ہے، ناشکری پر بھی احسان کا لطف آتا ہے کیونکہ اور بھی ان کی عظمت کر دارا بھرتی ہے۔ایک شخص احسان کرتا ہے اس کے احسان کا شکریہ ادا کیا جا رہا ہے۔ایک شخص احسان کرتا ہے اس کے احسان کا شکر یہ ادا نہیں کیا جا رہا۔ایک شخص وہ ہے جس کو گالیاں دی جارہی ہیں، اذیتیں پہنچائی جا رہی ہیں، تب بھی وہ احسان کر رہا ہے۔اب ان کے لطف میں بڑا فرق ہے۔وہ جو آخری صورت ہے اس کی کوئی مثال نہیں اور کوئی احسان کا مضمون اس کے ساتھ مماثلت نہیں رکھتا۔یہ بلند ترین مضمون ہے احسان کا۔یہ احسان اگر پیدا ہو جائے تو پھر آپ ذات باری تعالیٰ کے اسماء کے قریب تر پہنچ جاتے ہیں یعنی جتنا بھی قریب ہونا خدا نے ہماری خلقت میں مقدر کر رکھا ہے اس سے زیادہ ہم قریب نہیں ہو سکتے مگر جب آپ اتنا قریب ہو جاتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ آپ کو وہ خلو مل جاتا ہے جو جنت کی صفت ہے اور اہل جنت کو جنت میں عطا ہوگا کیونکہ صفات باری تعالیٰ کا