خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 272
خطبات طاہر جلد 14 272 خطبہ جمعہ 21 اپریل 1995ء اندر پاتا ہے۔غم کے وقت بھی انسان کے اندر ایک بہیجان کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔خوشی کے وقت بھی انسان کے اندر ایک ہیجان کی کیفیت پیدا ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ اس ہیجان سے پاک ہے کیونکہ ہیجان دراصل ذات کے اندر زمانہ گزرنے کو کہتے ہیں۔اگر کسی ذات کے اندر زمانہ گزرنے لگے تو وہ ہیجان ہے اور زمانہ ٹھہر جائے تو وہ اکتاہٹ ہے، طبیعت بے زار ہو جاتی ہے اور کہتے ہیں وقت نہیں گزرتا لیکن دراصل یہ اندرونی کیفیات ہی کے نام ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں بڑی قطعیت کے ساتھ اور اس وجہ سے کہ واقعہ بہت اہم مسئلہ ہے، فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں ہیجان کا تصور جرم اور گناہ ہے۔خدا تعالیٰ میں کوئی بہیجان نہیں ہے اور یہ اس لئے لازم ہے کہ اگر ہیجان ہے تو پھر وہ ایک فانی ذات ہے کیونکہ اس کے اندر پھر تبدیلیاں ہو رہی ہیں اور تبدیلیاں ایسے زمانے کو چاہتی ہیں جو کسی نہ کسی طرف کوئی کنارہ رکھتا ہے۔آغاز بھی ہوتا ہے اور انجام بھی ہوتا ہے اور اس کے مادے کی کیفیت ایک نہیں رہتی۔پس اس پہلو سے یہ بہت اہم مضمون ہے لیکن اس کے نتیجے میں پھر جو اور مسائل پیدا ہوتے ہیں اور بعض احادیث میں خدا تعالیٰ کی صفات جس طرح بیان فرمائی ہیں ان سے اس مضمون کا جو ایک قسم کا ٹکراؤ دکھائی دیتا ہے اس کا حل پیش کرنا ضروری ہے۔جہاں تک ہیجان کا تعلق ہے اس کا جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے زمانے گزرنے سے گہرا تعلق ہے اور اگر زمانہ نہ گزرے تو پھر انسان اور کچھ نہیں تو کھیل کود میں ہی مصروف ہو جاتا ہے اور کھیل کود سے وقت کو ٹالتا ہے۔آج کل جو ٹیلی ویژن دیکھنے کا رواج ہے یہ وقت کو تباہ کرنے کی ہی شکل ہے۔کوئی اچھا کام نہ ہو، کوئی دلچسپی کی بات نہ ہو، مصروفیت نہ ہو تو ایسا آدمی ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھا رہتا ہے یعنی وہ لوگ یا وہ قومیں جہاں یہ عام ہے ان کا یہی حال ہے کہ بچے بھی ، بڑے بھی وہ ایک کام چھوڑ کر ٹیلی ویژن کے سامنے آ کے بیٹھتے ہیں اور ٹیلی ویژن کے سامنے آکر بیٹھنا کئی قسم کی کہانیاں بیان کرتا ہے، کئی ان کہی باتیں ہمارے سامنے کھولتا ہے۔ایک بچہ جس کو پڑھائی میں دلچسپی ہے اور گہرا انہماک پایا جاتا ہے اور شوق ہے کہ وہ زیادہ نمبر لے وہ ٹیلی ویژن دیکھے گا بھی تو سرسری نظر سے، پاس سے دیکھ کر گزر جائے گا مگر اس کے پاس وقت نہیں ہوتا۔ایک شخص ہے جسے ایک اچھی مجلس مہیا ہے، بہت دلچسپ باتیں ہو رہی ہیں ایسے موقع پر ٹیلی ویژن کے بعض اچھے پروگرام بھی لگے ہوں