خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 247 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 247

خطبات طاہر جلد 14 247 خطبہ جمعہ 7 / اپریل 1995ء کہ اس کا کچھ بھی باقی نہیں رہا اور اس میں گریہ وزاری پیدا ہوئی ہے اور خدا کی طرف توجہ ہوئی ہے تو قرآن کریم فرماتا ہے کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ شخص پھر شرک کی طرف لوٹے گا پھر بھی اللہ کی رحمانیت آسمان سے اس کے لئے نیچے اترتی ہے اور اسے سنبھال لیتی ہے خواہ وقتی طور پر ہی سہی، یہ بالکل الگ مضمون ہے مگر روزمرہ کی زندگی میں ایک مسلمان نے اگر اللہ کی رحمانیت سے تعلق جوڑنا ہے تو صفت رحمانیت پر غور کرے اور رحمن خدا سے تعلق قائم رکھنے کے کیا کیا تقاضے ہیں؟ وہ صفت رحمانیت جو آپ کی ذات میں ودیعت فرمائی گئی ہے وہ فی ذاتہ اللہ کی صفت نہیں اللہ کی صفت کا ایک عکس ہے۔پہلے تو یہ مضمون اچھی طرح سمجھنا چاہئے کہ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ کا مضمون تمام صفات باری تعالیٰ کو ہمیشہ کے لئے خالق تو مانتا ہے لیکن اپنے جیسا پیدا کرنے والا نہیں مانتا۔وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا اَحَدٌور نہ اس جیسے کچھ اور بھی ہو جاتے۔اس کے ہم مزاج ، ہم خلق ، اس جیسی صفات رکھنے والے اور بھی وجود پھر بہت کثرت سے ملتے تو پہلے تو انکسار کا یہ مضمون سمجھنے کی ضرورت ہے آپ جتنا مرضی رحمن بنے کی کوشش کریں۔رحمن اور ہے اور رحمن کا عکس اور ہے اور عکس، عکس میں فرق ہے۔ایک جگہ عکس ایسا کامل ہو جاتا ہے کہ گویا وہی دکھائی دیتا ہے۔جو اوپر ہے اور ذات کی میل کلیہ مٹ جاتی ہے۔یہ وہ مرتبہ ہے جو محمدیت کا مرتبہ ہے اور حضرت محمد رسول صلى الله اللہ سے ایسا تعلق قائم کرنا کہ اپنی ذات کلیۂ مٹ جائے یہ احمدیت کی شان ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی شان میں وجود پذیر ہوئے ہیں۔اسی شان کے اظہار کے لئے آپ کی تخلیق ہوئی ہے کہ جس طرح محمد رسول اللہ ﷺ نے خدا کے حضور اپنے وجود کے ہر پہلو کو کلیۂ مٹا صلى الله ڈالا۔یہاں تک کہ آپ کے آئینے میں خدا کے سوا کچھ باقی نہ رہا جب یہ ہوا تو پھر آپ گورحمتہ للعالمین قرار دیا گیا۔رحمن نہیں ہے مگر رحمن کی رحمت کا جلوہ گر ہے اور جب حضرت مسیح موعود حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے وجود کو حضرت محمد رسول اللہ ﷺے کیلئے اس طرح مٹا دیا جس طرح حضرت محمد رسول اللہ اللہ نے خدا کے لئے مٹا دیا تھا تو پھر وہ احمد پیدا ہوا ہے جسے غلام احمد کہنا چاہئے اور یہی نام رکھا گیا ہے یعنی احمد ہوتے ہوئے بھی غلامی کی وجہ سے احمد بنا۔اس لئے خدا نے دیکھیں آپ کے نام میں کیسی پیاری حکمت رکھ دی اس کی تشکیل میں ہی آپ کی دونوں صفات موجود ہیں۔احمد ہیں مگر غلام بن کر احمد ہیں۔آزاد احمد نہیں ہیں اور احمد کی شان مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام