خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 243 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 243

خطبات طاہر جلد 14 243 خطبہ جمعہ 7 / اپریل 1995ء کاٹنے کے بعد بخشش کا مضمون خود بخود غائب ہو جاتا ہے۔پھر نہ بخشش مانگنے کا کوئی سوال باقی رہتا ہے، نہ بخشش عطا کرنے کا کوئی سوال باقی رہ جاتا ہے کیونکہ سب سے زیادہ مغفرت کا تعلق رحمانیت سے ہے۔اللہ تعالیٰ نظر انداز فرما دیتا ہے کہتا ہے کوئی بات نہیں۔خدا کی رحمانیت گناہوں کو گویا ڈھانپتی ہے اور اسی سے استغفار کا مضمون پیدا ہوتا ہے۔تو اتنا بڑا گناہ ہے اور اس کی اہمیت کوئی نہیں۔جب پوچھا جائے تو کہتے ہیں اس کا قصور ہے ، اس نے کاٹا ہے۔اگر کہا جائے اس سے کہ تم بتاؤ وہ کہتے ہیں جی اس نے کاٹا ہے، ہمارا تو کوئی قصور نہیں لیکن تعلق کٹ گیا یہ پکی بات ہے اور یہ کہنا کہ اس نے کاٹا ہے یہ اس لئے غلط ہے کہ وہ جو تکرار تقوی کی ہے جس کا ذکر میں نے کیا ہے وہ بتاتی ہے کہ عموماً دوطرفہ نقائص ہی ہوتے ہیں، یکطرفہ نہیں ہوا کرتے۔ایک شخص نے تقوی سے تجاوز کیا اور رحمی رشتوں کو حقیر سمجھا، کوئی طعن و تشنیع کی بات کر دی جو دونوں طرف سے ممکن ہے تو اس کے نتیجے میں جو تعلق پر اثر پڑتا ہے وہ دوطرفہ اس طرح ہے کہ سننے والے کو بھی اگر رحمی رشتے کی اہمیت کا احساس ہو وہ صبر سے کام لے اور عفو سے کام لے تو پھر بھی یہ تعلق قائم رہ جاتے ہیں۔پھر رفتہ رفتہ مزاجوں میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے، بخت دل نرم ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور تعلقات دن بدن بہتر سے بہتر ہوتے چلے جاتے ہیں۔مگر افسوس ہے کہ بڑے بڑے تعلیم یافتہ ، بہت بڑے دینی ذوق اور علم رکھنے والے بھی اس بات سے نا آشنا ہیں۔کسی کی بیٹی اپنے گھر آتی ہے اور یہ ضد ہے، انانیت بن گئی ہے کہ جب تک یہ پوری طرح ناک میں نکیل ڈلوا کر ہماری خدمت نہیں کرتی اور ہماری ہر بات ، ہر مزاج کے مطابق کام نہیں کرتی ہمیں اس کی کوئی بھی پرواہ نہیں اور اگر وہ بے چاری روتی پیٹتی گھر چلی جائے تو یہ - انانیت کے خلاف ہے کہ اسے واپس لایا جائے۔وہ ذلیل اور رسوا ہو کر ، فقیر نی بن کر گھر پہنچے تو ہم قبول کریں گے اور پھر جب پوچھا جائے کہ یہ کیا ہورہا ہے تو کہتے ہیں، ان کا قصور ہے۔ان کا قصور ہے تو تمہیں یہ بھی تو خیال چاہئے تھا کہ ہر شخص کی ایک عزت نفس ہے اگر رحمان خدا سے تعلق قائم کرنے کی خاطر تم اپنے فرضی مقام عزت سے نیچے اتر آؤ تو اس کا کوئی نقصان نہیں ہے لیکن رحمان خدا سے تمہارا تعلق ضرور قائم ہو جائے گا اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو پھر یہ سوچو کہ رحمان کو تمہاری خاطر نیچے اترنے کی کیا ضرورت ہے؟ تمہارا مقام عزت تو ایک فرضی مقام ہے، اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور تمہارا یہ فیصلہ کہ دوسرے کا قصور ہے یہ بھی ایک تحقیق طلب امر ہے اگر تحقیق نہیں کر سکے تو اللہ کے نزدیک