خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 242
خطبات طاہر جلد 14 242 خطبہ جمعہ 7 / اپریل 1995ء دفعہ تقویٰ ، تقویٰ کا ذکر ملتا ہے۔اب دو دفعہ تقویٰ اس لئے بھی کہا ہے کہ اس مضمون پر زور دیا جائے اور توجہ دلائی جائے کہ بہت تقویٰ کی ضرورت ہے ، رشتے بن رہے ہیں اور کئی قسم کے خطرات بھی رشتوں کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں جیسا کہ قطع رحمی کا ایک خطرہ ہے۔اس لئے وہ آیتیں اختیار فرمائی گئی ہیں جن میں دُہراؤ ہر ا تقویٰ کا ذکر ہے مگر ایک اور مضمون بھی ہے کہ چونکہ دور شتے ہیں ، دورحم مل رہے ہیں ، دور تھی سلسلے مل رہے ہیں ، اس لئے جیسے یوں کہا جائے کہ دیکھو تم بھی تقویٰ اختیار کرو تم بھی تقوی اختیار کرو ہم بھی تقوی اختیار کرو تم بھی تقویٰ اختیار کرو، تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ تکرار ان دونوں کو خصوصیت سے مخاطب کرنے کے لئے کی گئی ہے اور دونوں تقویٰ دونوں میں سے ہر ایک پر چسپاں ہوتے ہیں یعنی یہ مطلب نہیں کہ ایک کو ایک دفعہ تقوی کہہ دیا تو دوسری طرف منہ موڑا اور اس کو تقوی کہہ دیا۔تو دو الگ الگ تقووں کے مضمون ، دوالگ الگ فریقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔مراد یہ ہے کہ اس میں ایک لطیف اشارہ ہے کہ جہاں دو وجود آپس میں پیوست ہوں اور رحمی رشتے خصوصیت کے ساتھ ایک رستے میں اکٹھے کر دیئے جائیں تو وہاں تقویٰ کی دوہری ضرورت پیش آتی ہے اور دونوں کیلئے لازم ہے کہ وہ تقویٰ سے کام لیں لیکن بدقسمتی سے جو جماعت میں خاندانی جھگڑے ملتے ہیں بہو اور ساس کے ہوں یا خسر اور بہو کے ہوں یا داما داور ساس کے ہوں اور داماد اور خسر کے ہوں ان میں ہر جگہ جب آپ تفصیل سے نظر ڈالتے ہیں تو اس اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے کسی نہ کسی رنگ میں روگردانی نظر آئے گی۔مشکل یہ ہے کہ اگر آپ ایک کو سمجھائیں کہ دیکھو یہ بہت ہی اہم مضمون ہے۔رحمی رشتہ کی اتنی اہمیت قرآن کریم کے نزدیک ہے کہ آنحضرت ﷺ رحمی رشتوں کی اس اہمیت کو قرآن سے یوں سمجھتے ہیں کہ جس نے رحم مادر سے تعلق کاٹ لیا یعنی رحمی رشتوں سے تعلق کا ٹا خدا فرماتا ہے کہ میں اس کے ساتھ اپنا تعلق کاٹ لوں گا اور میری رحمانیت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔اب امر واقعہ یہ ہے کہ رحمانیت کا پر تو اگر اٹھتا ہے تو کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ہر پہلو سے ناکامی اور نا مرادی ہے کیونکہ اللہ کے بعد اگر کوئی صفت دوسرے تمام اسماء پر حاوی ہے تو رحمانیت ہے۔اللہ پر کوئی صفت حاوی نہیں ان سب صفات کا مجموعہ اللہ ہے لیکن آپس کے تعلقات میں بعض صفات زیادہ وسیع الاثر ہیں بعض نسبتا کم دائروں میں اثر انداز ہیں اور رحمانیت اس لحاظ سے سب سے وسیع الاثر ہے۔تو جس نے رحمانیت سے تعلق کاٹ لیا اس کا تو کچھ بھی باقی نہ رہا اور رحمانیت سے تو ن سے تعلق