خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 236
خطبات طاہر جلد 14 236 خطبہ جمعہ 7 / اپریل 1995ء کو گالیوں سے بھرا ہوا خط لکھا اور انہوں نے کہا کہ کسی قیمت پر ہم یہاں یہ مسجد برداشت نہیں کریں گے یعنی چرچ ہر جگہ بنے ہوئے ہیں؛ پھیلتے چلے جارہے ہیں دور دراز جزائر میں بھی کلیسا تعمیر ہورہے ہیں ان کو کوئی تکلیف نہیں پہنچی مگر پہلی مسجد جو تعمیر ہو رہی تھی اس پر ایسی آگ لگی کہ نہ صرف گالیوں کا خط لکھا بلکہ یہ دھمکی دی کہ میں اس مسجد کو آگ لگوادوں گا لیکن یہ مسجد ہم سے برداشت نہیں ہو سکتی۔بعد میں انہوں نے مسجد کونا کام کرنے کی خاطر اس کے قریب ہی اپنا گھر بنوایا اور وہاں ایک اپنی مسجد چھوٹی سی تعمیر کروائی ، گویا کہ وہ پہلی مسجد بن گئی۔حالانکہ یہ مسجد اس سے بہت پہلے بن چکی تھی اور انہوں نے محض ایک دکھاوے کے طور پر کہ نہیں ہم نے بھی الگ مسجد بنالی ہے۔اس شخص کے کچھ دشمن بھی تھے۔آپس میں مخالفتیں بھی تھیں۔انہوں نے اس گھر کو مسجد سمیت آگ لگا دی۔جو گھر اس آگ کے نتیجے میں بنایا گیا تھا جو اس کے دل میں بھڑ کی ہوئی تھی۔پس وہ شخص جس نے جماعت کی مسجد کو آگ لگانے کی دھمکی دی تھی اس کا گھر بھی جل گیا اور وہ مصنوعی دنیا کی خاطر بنائی ہوئی مسجد بھی جل گئی تو اللہ تعالیٰ کے نشانات ہر جگہ احمدیت کی تائید میں ظاہر ہوتے ہیں۔اللہ تعالی کے فضل سے وہاں کی جماعت جو تمام تر عیسائیوں میں سے آئی ہے بہت ہی مخلص ہے اور شدید خطرناک حالات کے مقابلے میں ثابت قدم ہے۔وہاں فاصلے بہت طویل ہیں۔جزائر ہیں چونکہ پھیلے ہوئے ہیں اس لئے بہت فاصلوں کا مسئلہ ہے ایک دوسرے سے رابطہ کرنا۔مجھے صحیح یاد نہیں کہ ہزار میل یا ڈیڑھ ہزار میل کا معاملہ ہے لیکن یہ مجھے خطوں سے اندازہ ہے کہ کافی فاصلے ہیں اور سب سے بڑی دقت یہ ہے کہ سڑکوں کا نظام کوئی نہیں۔سڑکیں بہت کم ہیں اور جنگل اتنے خطرناک ہیں کہ ان کو عبور کرنا ان کے لوکل باشندوں کے لئے بھی آسان نہیں ہے۔چنانچہ اکثر جگہ روابط ہوائی جہاز کے یا ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہوتے ہیں یا پھر وہ جنگلی لوگوں نے اپنے کچھ رستے بنارکھے ہیں وہ ان میں سفر کرتے ہیں۔کہیں کوئی قتل ہو جائے کسی کے گھر جلا دیئے جائیں حکومت کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی اس لئے مقامی لوگ جب کسی کی مخالفت کریں تو اس کا سامنا کرنا آسان کام نہیں ہے، کوئی قانون کا ہاتھ آپ کی حفاظت کے لئے وہاں نہیں پہنچتا۔ایسے علاقوں میں جہاں احمدی ہوئے ان کو یہی دھمکیاں دی گئیں کہ تمہارے گھر جلائے جائیں گے اور بڑی شدید مخالفت کا سامنا ان کو کرنا پڑا۔یہ اللہ کے فضل سے ایک بھی مرتد نہیں ہوا۔ثابت قدم رہے اور ساتھ اس کے