خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 235
خطبات طاہر جلد 14 235 خطبہ جمعہ 7 اپریل 1995ء کے سوا کسی کو وہاں پیغام پہنچانے کی اجازت ہی نہیں تھی۔جماعت احمدیہ کو بھی آغاز میں بہت دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔عیسائیوں نے کھل کر مخالفت کی۔مسجد کی بھی مخالفت کی ، ہر حکومت کی سطح پر بھی انہوں نے اثر و رسوخ ڈالنے کی کوشش کی۔کھل کر اخباروں میں عیسائی پادریوں نے مضمون لکھے کہ عیسائیت کے سوا اس ملک میں کسی اور کو تبلیغ کی اجازت نہیں ہونی چاہئے اور وہ پالیسی جو ساری دنیا میں عیسائی ملک پیش کرتے ہیں آزادی ضمیر کی ، جہاں موقع ملا وہاں خود اس پالیسی کو اپنے قدموں تلے کچل دیا اور کھلم کھلا مذہب کو اپنے نام منسوب کر کے اس کے تمام حقوق اپنی طرف وابستہ کر لئے۔اس سلسلے میں ہمیں بڑی جد و جہد کرنی پڑی ہے۔تمام دنیا سے ان کی ایمبیسیز کو اور ان کے ملک کو خطوط لکھوائے گئے ، اخبارات میں بھی احتجاج کروائے گئے۔ان اخبارات کو جو نسبتاً آزاد تھے مضامین لکھ کر بھیجے گئے۔چنانچہ اللہ کے فضل سے ان کا مثبت اثر ظاہر ہوا اور حکومت نے یہ قطعی فیصلہ کر لیا جو سیاسی حقوق ہیں اور تمدنی حقوق ہیں ان پر ہم کسی قیمت پر مذہب کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے۔یہاں تک کہ ان کے سب سے بڑے افسر نے جو عیسائیت سے متاثر تھا اور متعصب تھا اس نے جب حکومت کے سامنے اس مسجد کی منظوری کے آخری فیصلے سے پہلے ایک نوٹ لکھا، میمورنڈم جس کو کہتے ہیں، اس میں کہا کہ عیسائی چونکہ بہت مخالف ہیں اس لئے اس مسئلہ پر ہمیں ہر پہلو سے غور کرنے کے بعد پھر فیصلہ کرنا چاہئے۔تو پرائم منسٹر صاحب نے اس پر جو مختصر جواب لکھا وہ یہ تھا کہ تم اپنے کام سے کام رکھو۔حکومت کے قوانین کی پابندی کرنا تمہارا کام ہے۔ان قوانین میں جہاں کہیں کوئی رخنہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تمہارا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کرو لیکن ان قوانین سے ہٹ کر باہر کے معاملات کا تم سے کوئی تعلق نہیں۔اگر تم نے کام کرنا ہے تو قوانین کے مطابق کرو۔یہ اتنا واضح جواب تھا کہ اس کے بعد پھر کسی کو جرات نہیں ہوئی اور خدا کے فضل سے مسجد پایہ تکمیل کو پہنچ چکی ہے، ساتھ مشن ہاؤس بھی بن گیا ہے۔اس ضمن میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عجیب نشان بھی ظاہر ہوا، ہر جگہ نشانات عجیب ہی ہوتے ہیں مگر یہ واقعہ ہے اس کو ریکارڈ کرانے کے لئے اسی افتتاح کے موقع پر آپ سب کے سامنے رکھتا ہوں۔عیسائیت نے جب اپنا ز ور مکمل کر لیا اور نا کام ہوگئی تو وہ چند مسلمان جو باہر سے آکر وہاں آباد ہوئے ہیں اور بعض امیر ملکوں سے ان کے تعلقات ہیں ان کو مدد بھی ملتی ہے ، ان میں سے چند نے ایک سوسائٹی بنائی ہے اسلامک سوسائٹی۔ان کا جو سر کردہ ممبر ہے انہوں نے اکرم احمدی صاحب