خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 230
خطبات طاہر جلد 14 230 خطبہ جمعہ 31 / مارچ 1995ء تو کل میں بعض دفعہ انسان بے سوچے سمجھے اپنے مشوروں پر یا اپنی آراء پر تو کل کرنے لگ جاتا ہے۔پاکستان میں آج کل مجلس شوری کے ممبران میں بھی ممکن ہے یہ باتیں ہوتی ہوں کہ اب تبدیلیاں ہورہی ہیں۔مولویوں کے بھی پکڑ کے دن آرہے ہیں اور انحصار اس بات پر ہے کہ فلاں پریذیڈنٹ نے یہ بیان دے دیا ہے، فلاں وزیر نے دے دیا، فلاں صدر نے یہ بیان دے دیا تو اب معلوم ہوتا ہے کہ دن بدل جائیں گے۔دن تو بدلیں گے مگر ان بیانات کی وجہ سے نہیں بدلیں گے۔کیونکہ ان بیانات کا ہی اعتبار کوئی نہیں۔پہلے بھی میں نے جماعت کو متنبہ کیا تھا کہ جو سیاسی بیانات ہوتے ہیں یہ بعض دفعہ بات مشرق کی کرتے ہیں اور مراد مغرب ہوتی ہے۔اگر کہتے ہیں کہ اب ہم مولویوں کو پکڑیں گے اور امریکہ سے مدد مانگیں گے اور وہ آکر ان کا قلع قمع کرے تو مراد یہ ہوتی ہے مولویو رستے پر آجاؤ، ہم سے تعاون کرو، اپوزیشن سے اپنے رشتے ختم کرو تو پھر مدد ہم نے مانگی ہے ہم مددکو واپس بھی کر سکتے ہیں۔تو سیاسی بیانات کو پڑھنے کا بھی تو شعور ہونا چاہئے لیکن شعور ہو یا نہ ہو آپ نے ان پر کوئی تو کل نہیں کرنا، حالات بدلیں گے تو اللہ کی تقدیر سے بدلیں گے۔آپ مشورے دیانتداری اور تقویٰ سے کریں اور اپنی طرف سے ہر کوشش کریں کہ دشمن کے شر سے آپ محفوظ رہیں اور کسی کے وعدوں پر نہ جائیں بلکہ اپنے شعور اور اپنی محنت اور خلوص کے ساتھ با قاعدہ تدبیر کریں اور اس شان کی تدبیر کریں کہ اللہ کی نمائندگی کی تدبیر سے کہا جاسکے۔وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللهُ وَاللهُ خَيْرُ الْمُكِرِينَ (آل عمران : 55 ) وہ بھی مکر کرتے ہیں تم بھی مکر کرو، مکر کا جواب دو، توڑو۔یہ اللہ کے حوالے سے ہمیں سمجھایا جا رہا ہے۔یہ میں کہہ رہا ہوں انہوں نے مکر کیا اللہ نے بھی جوابی مکر کیا۔وَاللهُ خَيْرُ المُكِرِينَ اللہ کا مگر یقینا ہمیشہ اچھا ہوتا ہے۔خیر سے مراد دو ہیں ایک یہ کہ غالب آتا ہے وہ مکر اور دشمن کا مکر اس کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔دوسرا یہ کہ دشمن بد مکر کرتا ہے تو اس کے جواب میں بد مکر نہیں خدا کرتا۔اگر دشمن ہتھیا را کٹھے کر رہا ہے، فتنہ فساد کی باتیں کر رہا ہے تو جوابی تدبیر میں آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ وَاللهُ خَيْرُ الْمُكِرِينَ و قتل عام ، وہ کئی قسم کے مظالم جس کے نتیجے میں وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہ خَيْرُ الْمُكِرِينَ کی مثالیں نہیں ہیں۔یہ مکر سوء ہے۔گندا اور ظالمانہ مکر ہے۔تو آپ نے جو جوابی تدبیر اختیار کرنی ہے جس کی طرف میں آپ کو توجہ دلا رہا ہوں وہ شریعت کے مطابق اس کے اندر