خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 229 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 229

خطبات طاہر جلد 14 229 خطبہ جمعہ 31 / مارچ 1995ء بنانے کی توفیق ملی یعنی عالمی تو پہلے ہی تھا مگر اس پر عمل درآمد عالمی حیثیت سے کرنے کی توفیق ملی تو میں نے بھی اس موقع پر مختلف نصیحتیں کی ہیں جو اس دائرے سے باہر تو نہیں ہیں جس کو میں چارٹر کہتا ہوں لیکن اس کی وضاحتیں ہیں، ان کی باریکیوں میں اتر کر مزید مضامین کو کھول کر پیش کیا گیا ہے۔تو ان سب کو اکٹھا کر کے ایک مجلس شوری سے متعلق تعارفی کتاب جماعت کو شائع کرنی چاہئے اور مجلس شوری اس وقت جو پاکستان میں ہورہی ہے ان میں صدرانجمن کو میں اس بات کا نگران بنا تا ہوں کہ وہ یہ کتاب شائع کریں اور تحریک جدید کی ذمہ داری ہوگی کہ پھر اسے مختلف زبانوں میں ترجمہ کرا کے اسے سب دنیا میں مشتہر کریں۔جہاں تک تو کل کے مضمون کا تعلق ہے میں یہ ایک اہم بات کہہ کر اس خطبے کو ختم کروں گا کہ جماعت احمدیہ کو یہ یا درکھنا چاہئے کہ اگر آنحضرت ﷺ کے حوالے سے عزمت کے بعد تو کل پر بنا رکھی گئی ہے تو آپ کے مشورے یا میرے مشورے اور آپ کے فیصلے اور میرے فیصلے تو کل کے بغیر کیا اہمیت رکھتے ہیں ، کچھ بھی نہیں رکھتے۔اس لئے تو کل کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں اور توکل کے لئے جو خدا تعالیٰ نے ہدایتیں فرمائی ہیں ان پر عمل درآمد کریں۔ان میں سے ایک یہ ہے جو آنحضرت ﷺ نے ہمارے سامنے کھول کر پیش فرمائی کہ تو کل یہ نہیں ہے کہ اونٹ کو کھلا چھوڑ دو اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ قادر ہے وہ اس کی حفاظت فرمائے اور جب تم باہر واپس آؤ کام سے فارغ ہو کے تمہارا اونٹ وہیں کھڑا ہو۔فرمایا یہ تو کل نہیں ہے۔تو کل یہ ہے کہ اونٹ کے گھٹنے باندھو پھر وہم دل سے نکال دو۔پھر اللہ پر معاملہ چھوڑو اور دعا کرو اور یقین رکھو یعنی خدا پر کہ اللہ تمہاری حفاظت فرمائے گا اور اس اونٹ کو کوئی دشمن نقصان نہیں پہنچائے گا یا خود وہ رسی تڑا کر نہیں بھاگ جائے گا۔تو تدابیر کو اپنی انتہا تک پہنچانا اور پھر وساوس سے اپنے آپ کو بالکل پاک کرلینا کلی خدا تعالیٰ پر توکل کرنا یہ ایک اہم مضمون ہے جو شوری کے ساتھ تعلق رکھتا ہے آپ اپنی تدابیر کریں، سوچیں غور کریں۔جو ذرائع دشمن کے شر کے دفاع کے لئے ضروری ہیں وہ ضرور اختیار کریں۔جو ذ رائع جماعت کی ترقی کے لئے آپ سوچ سکتے ہیں دعائیں کرتے ہوئے ان میں برکت کے لئے اللہ کے حضور التجائیں کرتے ہوئے ان پر عمل درآمد کرائیں اور پھر تو کل کریں تو اللہ تعالیٰ ان فیصلوں میں بہت برکت ڈالے گا۔