خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 228
خطبات طاہر جلد 14 228 خطبہ جمعہ 31 / مارچ 1995ء جماعت کے سامنے بار بار لائے جانے کی اس کو ضرورت ہے۔جب میں نے حضرت فضل عمر کی سوانح پر دوسری جلد میں کام کیا، مجلس شوری کو بھی میں زیر بحث لایا تھا اس میں حضرت مصلح موعودؓ کی ابتدائی ہدایات جو شوری سے متعلق جماعت کو ہیں ان کو سب کو لکھتے ہوئے میں نے یہ خاص طور پر اس کی اہمیت پر زور دیا تھا حالانکہ میں اس وقت کسی قسم کا امر نہیں رکھتا تھا۔صرف ایک مصنف کے طور پر میرے سپر د حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے یہ کام کیا تھا کہ بورڈ کے مشورے سے میں یہ تصنیف کروں۔تو اس میں میں نے یہ بات لکھی تھی کہ میرے نزدیک حضرت مصلح موعودؓ کی شوری کے متعلق جو یہ ہدایات ہیں یہ ہمیشہ کے لئے جماعت کے سامنے ایک چارٹر کی حیثیت رکھتی ہیں اور اس وقت جو میں نے محسوس کیا جب میں نے دوبارہ پڑھا تو پھر بھی یہی محسوس کیا کہ اتنی اہم ہدایات ہیں جن میں تمام امور آجاتے ہیں ، غور بھی کریں تو اس سے باہر کوئی دکھائی نہیں دیتا۔پس اب جبکہ مجلس شوری کا نظام عام ہو رہا ہے اور بعض دفعہ غلطیاں بھی ہوتی ہیں اور کمزوریاں بھی دکھائی جاتی ہیں۔وہ جو غلطیاں اور کمزوریاں ہیں ان سب کا تعلق اس شوری کے نظام سے لاعلمی کے نتیجے میں ہے جس کا میں ذکر کرتا ہوں کہ خدا نے قائم فرمایا اور حضرت مصلح موعودؓ نے اس کو گہرائی سے سمجھ کر جماعت کے سامنے کھول کر پیش کیا۔تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ اب ضرورت ہے کہ اس جماعت کی شوریٰ کے نظام کے چارٹر کو تمام ان زبانوں میں ترجمہ کر کے نشر کیا جائے جہاں جہاں مجلس شوری قائم ہوگئی ہے اور ہر جماعت کے ایسے فرد کو جو شوری کا اہل ہے خواہ وہ شوریٰ کا ممبر ہو یا نہ ہو اس کے علم میں ہونا چاہئے کہ کس قسم کی تم سے توقعات ہیں۔مجلس شوریٰ کا ممبر بننے سے پہلے تمہیں کیا ہونا چاہئے ؟ کون سی صلاحیتیں پیدا کرنی چاہئیں، کس قسم کے خطرات سے آگاہی ہونی چاہئے ، کن چیزوں سے تم نے بچنا ہے، کن چیزوں کو اختیار کرنا ہے۔یہ تمام اموران ہدایات میں داخل ہیں۔اور دوسرے یہ کہ اس کے بعد حضرت خلیفدیہ امسح الثالف نے جو اپنے تجربے سے کئی باتیں سمجھیں اگر چہ وہ اصولاً ان دائروں میں آتی ہیں مگر بہت سے ایسے تجارب ہیں جن میں شوری میں آپ نے ہدایات دیں جو مفید ہیں اور اس طرح بعد میں مجھے بھی جب مجلس شوری کے نظام کو عالمی