خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 227
خطبات طاہر جلد 14 227 خطبہ جمعہ 31 / مارچ 1995ء میں مشورہ کرتے ہیں ، لڑ بھی پڑتے ہیں ، اختلاف بھی ہو جاتے ہیں پھر ا کٹھے بھی نہیں ہوتے بعض دفعہ لیکن ایک باپ جب بچوں سے مشورہ لیتا ہے تو پھر یہ واقعہ نہیں ہوتا کیونکہ باپ پھر جو بھی فیصلہ کرتا ہے بچے اگر ان میں حیا اور شرافت ہو، بے حیاؤں کی تو بات ہی نہیں ہورہی اور یہاں تو مومنوں کی بات ہے جو حیادار لوگ ہیں وہ کبھی پھر آگے سے ٹیڑھی نظر سے باپ کو نہیں دیکھتے یا اس کے خلاف غصے کا اظہار نہیں کرتے ،ٹھیک ہے آپ کا جو فیصلہ ہے ہمیں منظور ہے۔فرمایا یہی وجہ ہے کہ سوائے خلیفہ وقت کے اور جماعت میں کسی کو یہ اختیار نہیں دیا گیا اور یہ اختیار محمدرسول اللہ ﷺ سے خلیفہ وقت ورثے میں پاتا ہے اور اس کی تقویت کا اور اس کی بقاء کا راز اس بات میں ہے کہ خلیفہ وقت اور جماعت کا محبت کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا اور ایک دوسرے پر اعتماد کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔اسی اصول کے پیش نظر آپ نے جو آغاز ہی میں مالی امور میں جماعت کی تربیت فرمائی اور ایسی نصیحتیں فرمائیں جن کا بہت دور رس تعلق تھا، ان میں ایک یہ بھی تھی کہ اگر جماعت احمدیہ میں کوئی تم سے آکر نیکی کے نام پر کچھ مانگتا ہے تو بالکل نہیں دینا۔ذاتی تعلقات ہیں اس میں تم جو مرضی خرچ کرو تمہارا اپنا مال ہے۔مگر نیک کاموں کے حوالے سے اگر کوئی مانگتا ہے تو ہرگز ایک دمڑی بھی نہیں دینی جب تک وہ یہ ثابت نہ کرے کہ اس نظام کی نمائندگی میں اس کو یہ اختیار ہے جس کو خلیفہ وقت نے منظور کر لیا ہے یا خلیفہ وقت نے واقعہ اس معاملے میں تمہیں اجازت دی ہے کہ تم یہ ایسا مانگ سکو۔آپ نے فرمایا اور اس کو اشتہار دے کر تمام جماعت میں خود پھیلا یا آغاز ہی کی بات ہے فرمایا، اس کو چھوٹی بات نہ سمجھو اس میں ہمارے مالی نظام کی بقاء مالی نظام کی زندگی کا راز ہے اگر تم نے اس کو نظر انداز کر دیا تو تمہارے مالی نظام کی حفاظت کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔خلیفہ وقت کا حکم آئے اور اجازت ہو تو پھر نیک کاموں میں خرچ کے لئے اپنے دل کھولو جو چاہتا ہے قربانیاں دو۔جو ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی نیکی کے نام پر مسجد میں بنانے والے ہیں وہ نظام کو درہم برہم کر دیں گے، وہ پرمہ افتراق پیدا کر دیں گے، بددیانتیوں کے آغاز ہوں گے، کئی قسم کے دھو کے شروع ہو جائیں گے اور جہاں اعتماد ختم ہو جائے وہاں مالی نظام قائم نہیں رہ سکتا۔تو آپ نے وہاں جماعت کو ایسے عظیم مشورے دیئے اور ایسی راہنمائی فرمائی ہے جو ہمیشہ ہمیش کے لئے زندہ رکھنے کے لائق ہے اور۔