خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 18
خطبات طاہر جلد 14 18 خطبہ جمعہ 6 جنوری 1995ء لحاظ سے ایک کمزور جماعت ہے یورپ کی جماعتوں میں بیـــجـیـنـم کی جماعت بہت کمزور ہے اخلاص میں نہیں مالی لحاظ سے لیکن اللہ نے توفیق دی ہے کہ چوتھے نمبر پر آچکے ہیں اور قربانیوں میں بھی آگے بڑھ رہے ہیں۔چندہ بالغان میں جو پاکستان کے اضلاع کا مقابلہ ہوا کرتا ہے ان میں کراچی اول، ربوہ دوم، لاہور سوم پھر فیصل آباد، سیالکوٹ، اسلام آباد، گوجرانوالہ ، شیخو پورہ، کوئٹہ اور سرگودھا آتے ہیں۔مجموعی وصولی کے لحاظ سے چندہ اطفال میں کراچی پھر اول لیکن یہاں ربوہ کی بجائے لاہور دوم اور ربوہ سوم ہے پھر فیصل آباد، راولپنڈی ، سیالکوٹ شیخو پورہ ،سرگودھا اور کوئٹہ اسی ترتیب سے آتے ہیں۔وقف جدید کی جو تحریک ہے یہ وقف جدید بیرون جب سے شروع ہوئی ہے اگر چہ اس آمد میں سے بہت حد تک انہی علاقوں میں خرچ ہوا ہے جن علاقوں کی خاطر یہ تحریک قائم کی گئی تھی یعنی پاکستان ، ہندوستان اور بنگلہ دیش۔لیکن حضرت مصلح موعود کی ایک رؤیا نظر سے گزری ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ خدا کا منشاء یہ ہے کہ بالآخر اس تحریک کا فیض یعنی جن کاموں پر خرچ کرنا ہے اس اعتبار سے بیرونی دنیا پر بھی پھیلانا ہوگا اور باقی ملکوں میں صرف پاکستان ، ہندوستان اور بنگلہ دیش پر ہی اس کا خرچ نہیں ہوگا بلکہ اور جگہ پر بھی اس قسم کا نظام جاری ہو یعنی وقف جدید کے مقاصد کے حصول میں ان کو بھی شامل کرنا پڑے گا صرف چندے کی قربانی میں نہیں۔پس اس لحاظ سے اس سال میں نے شعبہ مال کو ہدایت کر دی ہے کہ آغاز ہم افریقہ سے کرتے ہیں افریقہ میں ضرورتیں بڑھ رہی ہیں بعض ملکوں میں اقتصادی بدحالی کی وجہ سے چندوں میں کمزوری آرہی ہے تو وقف جدید کا ایک حصہ ہم انشاء اللہ اس سال افریقہ کی طرف منتقل کریں گے اور پھر ایسا وقت آئے گا کہ یورپ میں بھی وقف جدید کے نظام کے تحت ہمیں معلمین مقرر کرنے پڑیں گے اور اس قسم کے کام جاری کرنے ہوں گے جو اسلام کے آخری غلبے کے لئے ضروری ہیں۔ایک آخری بات اس وقت ، وقت چونکہ ختم ہو رہا ہے بلکہ ہو چکا ہے وہ حوالہ تو نہیں پڑھ سکا مگر اس کا خلاصہ میں نے بیان کر دیا ہے پھر کسی وقت حضرت مصلح موعودؓ کا وہ حوالہ بھی پڑھ کے سنا دوں گا۔پاکستان اور ہندوستان کے علاوہ دیگر جماعتوں کو بھی دفتر اطفال کا ریکارڈ رکھنا چاہئے۔یہ اس سلسلے میں آخری نصیحت ہے آج کے خطبے میں۔وقف جدید کا جو اطفال کا ریکارڈ ہے وہ پاکستان ، ہندوستان، بنگلہ دیش میں رکھا جاتا ہے مگر دوسرے ملکوں میں نہیں رکھا جاتا اور ہم چاہتے ہیں