خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 202 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 202

خطبات طاہر جلد 14 202 خطبہ جمعہ 24 / مارچ 1995ء ہی دریافت کر رہا ہے غلط ہے ان کا وقت آپکا تھا۔بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَى لَهَا الزلزال : 6) اس لئے یہ خزا نے ان لوگوں کے علم میں آئے ہیں کہ اے محمد تیرے رب نے وحی کی ہے کہ اسے مخفی خزانو ! ظاہر ہو جاؤ اور جب تک تیرے رب کی یہ تقدیر جاری نہ ہوتی کسی انسان کے بس کی بات نہیں تھی کہ ان مخفی خزانوں کی اطلاع پا سکتا۔پس یہ بدرجہ اولی قرآن کریم پر اطلاق پانے والا مضمون ہے اور اسماء باری تعالیٰ پر کیونکہ قرآن در اصل اسماء باری تعالیٰ ہی کا بیان ہے۔اب ایک اور بحث بڑی دلچسپ ہے کہ اسم اعظم کیا چیز ہے۔بہت سے لوگ اسم اعظم کی 66 عظ تلاش میں رہتے ہیں کیونکہ بعض احادیث سے یہ بات مستنبط ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کا ایک اسم اع ہے جس کے حوالے سے دعا زیادہ قبول ہوتی ہے۔تو اسم اعظم وہ کیا ہے اس سلسلے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ذات واجب الوجود کا اسم اعظم جو اللہ ہے یہ نہیں فرمایا کہ اسم اعظم اللہ ہے جو اللہ ہے“ کہہ کر کچھ اور مضمون بیان فرما رہے ہیں ”ذات واجب الوجود کا اسم اعظم جو اللہ ہے جو اصطلاح قرآنی ربانی کی رو سے ذات مستجمع جمیع صفات کا ملہ اور منزہ عن جمیع رزائل اور معبود برحق اور واحد لاشریک اور مبدء فیوض پر بولا جاتا ہے اب اس پہلو سے اگر اسم جامد کو وہ غیر معمولی کوئی جادو کا لفظ سمجھا جائے جس کے نتیجے میں ادھر نام بولا تو مسئلہ حل ہو گیا تو مضمون تو لفظ اللہ میں ہمیں دکھائی نہیں دیتا، اُس لفظ اللہ میں دکھائی نہیں دیتا جو اکثر لوگوں کی زبان پر جاری ہوتا ہے۔جھوٹی قسمیں کھانے والے بھی واللہ واللہ ہی کہتے ہیں۔واللہ، باللہ اللہ یہ عام محاورے ہیں عربوں میں بھی اور اللہ کی قسم بعض دفعه گندی باتیں کرتے وقت بھی اللہ کی قسم زبان پہ جاری رہتا ہے اور اللہ کے حوالے سے ہر مصیبت زدہ دعا کرتا ہے۔تو پھر اسم اعظم کا یہ معنی کہ کوئی ایسا نام ہو جیسے الہ دین کا چراغ “ کو یا یوں کہنا چاہئے کہ سم سم کا لفظ تھا وہ بولا جائے تو وہ خزانے کے دروازے کھل جائیں ، یہ بالکل غلط بات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی لئے یہ نہیں فرمایا کہ اسم اعظم اللہ ہے۔بس اللہ کہہ دیا کرو ہر بات ہو جائے گی بلکہ اسم اعظم کی ایسی تعریف کر دی جس کے نتیجے میں بہت سی ذمہ داریاں انسان پر عائد ہو جاتی ہیں اور جب تک ان حقوق کو ادا نہ کرے جو اسم اعظم کے حقوق بندے پر عائد ہوتے ہیں اس وقت تک وہ اسم اعظم منہ کی بات ہے اور کوئی بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتا اور حضرت اقدس