خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 201
خطبات طاہر جلد 14 201 خطبہ جمعہ 24 / مارچ 1995ء ہے اور احمد کا رحیم سے باندھا ہے اور بہت ہی عظیم الشان مضمون ہے جو اپنی ذات میں ہی لمبے غور اور بار بار کی غوطہ خوری کو چاہتا ہے۔رحیمیت کے ساتھ احمد کا تعلق ایک معنے بھی رکھتا ہے جو خاص طور پر ہماری توجہ کے مستحق ہیں یا اگر نہیں کھینچ سکے تو کھینچنا چاہئے۔رحیمیت میں بار بار کے معنے ہیں اور رحمانیت میں آغاز کے معنے ہیں اور معنوں کے علاوہ یہ دو نمایاں ہیں۔پس جہاں سے شریعت کا آغاز ہوا ہے وہ محمد ﷺ ہے اور دوبارہ محمد کا فیض جو بار بار جاری ہوگا اس میں رحیمیت کے معنے پائے جاتے ہیں۔رحمانیت نے سب کچھ دے دیا۔شریعت کامل ہوگئی نعمتیں تمام کو پہنچ گئیں ، اس کے بعد پھر دوبارہ کیا ضرورت ہے۔یہ ویسا ہی سوال ہے جیسے کہا جائے جب رحمان نے سب کچھ عطا کر دیا جو ضرورتیں تھیں ہمیشہ ہمیش کے لئے وہ ساری پوری کر دیں تو پھر رحیم کی کیا ضرورت ہے۔تو رحیم وہ ہے جو ان نعمتوں کو بار بار لے کے آتا ہے اور ساتھ نہیں چھوڑتا۔تو شان احمد وہ ہے جس نے اس وقت دوبارہ رحمانیت کا جلوہ دکھانا تھا یعنی وہ جلوے جو رحمان کے مظہر محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات میں ظاہر ہوئے ان کو دوبارہ پیش کرنے کی ضرورت پڑنی تھی اس وقت آپ ہی کی شان احمد آئی ہے کسی اور وجود کی ضرورت نہیں تھی۔وہی شان احمد ہے جو تمثل ہوئی ہے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس شان احمد کا مظہر بن کے وہی چیز تقسیم فرمانے آئے جو آنحضرت ﷺ کے اگر رزق کی تقسیم کی بات کی جائے تو ذہن میں آپ کے لنگر کی نعمتیں تھیں یا آپ کے خوان کی نعمتیں تھیں یہ آپ کا مائدہ تھا اور خزانوں کی بات کی جائے تو محمد رسول اللہ ﷺ کا مخزن ہی ہے آپ ہی کے خزانے ہیں جن کو دوبارہ لٹانے کی ضرورت پیش آئی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا گیا۔پس محمد اور احمد کا رحمان اور رحیم سے تعلق جوڑنا یہ انسان کے بس کی بات نہیں۔یہ الہی علم کے نتیجے میں حضرت مسیح موعود کو اس کا عرفان نصیب ہوا اور اس پر پھر مزید غور کرتے چلے جانے کی ضرورت ہے اور بہت سے نکات اس میں شامل ہیں، جو ضروری نہیں کہ سرسری آنکھ سے یا بعض دفعہ گہری نظر سے بھی فور ادکھائی دیں اور بعض خزانے ایسے ہیں جو دکھائی دینے کے باوجود اپنے مخفی معانی تہہ بہ تہہ رکھتے ہیں اور ان تک رسائی محض انسانی کوشش سے نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت اور اس کا اذن ضروری ہے۔دنیا دار سمجھتے ہیں کہ اس زمانے میں دیکھو کتنے خزانے دریافت ہو گئے مگر میں نے پہلے بھی حوالہ دیا تھا قرآن کریم کی اس آیت کا کہ یہ جو خزانے ہم سمجھ رہے ہیں کہ انسان خود