خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 199 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 199

خطبات طاہر جلد 14 199 خطبہ جمعہ 24 / مارچ 1995ء تعلق ہے گو سوچنے میں تو عام طور پر سمجھ نہیں آتی مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ مضمون ایک تو اس آیت کے حوالے سے بیان فرمارہے ہیں۔اَلرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ۔یہ رحمان ہی ہے جس نے قرآن سکھایا ہے۔پس تمام روحانی اور ایمانی حالتیں قرآن میں موجود ہیں اور وہ رحمان سے نکلی ہیں۔دوسرا سورہ فاتحہ پر جب غور کرتے ہیں تو وہ آیت جو ہر دفعہ دہرائی جاتی ہے سوائے ایک سورۃ کے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ وہ رحمان اور رحیم کو پہلے بیان کرتی ہے اور سورہ فاتحہ رحمان کو بعد میں بیان کرتی ہے اور ربوبیت کو پہلے بیان کرتی ہے۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ اللہ تمام جہانوں کا رب ہے اور پھر فرمایا الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ وہ رحمان بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔ان معنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ربوبیت کو اول اور رحمانیت اور رحیمیت کو اس کے بعد بیان کرتے ہیں کیونکہ سورہ فاتحہ نے اسی طرح بیان فرمایا ہے۔مگر یہ روحانی دنیا سے تعلق رکھنے والا مضمون ہے۔جب کچھ بھی نہیں تھا اس وقت خدا نے یعنی بحیثیت رحمان سب کچھ عطا کیا۔جب سب کچھ ہو گیا تو اس کو تربیت دے کر آگے بڑھانا بھی خدا تعالیٰ کی صفات میں داخل ہے اور تربیت دے کر آگے بڑھانا جب روحانی دنیا سے تعلق رکھے تو وہاں ربوبیت کے بعد سب سے پہلے الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ کا ذکر ملتا ہے اور پھر ملِكِ يَوْمِ الدِین کا ذکر ضروری ہے کیونکہ اگر ایک مقصد کی خاطر ترتیب دے کر آگے بڑھایا جا رہا ہے تو پھر امتحان بھی ہوگا اور جزاء سزا بھی ہوں گے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس فقرے کے یہ معنی ہوئے بلا استحقاق احسان کرنے والی رحمت“ جو عام ہے سب دنیا میں ساری کائنات پر عام ہے۔بے جان مادہ بھی اسی رحمت سے پیدا ہوا ہے اور ایمانی حالت سے وابستہ رحمت جس کا سورہ فاتحہ میں ذکر فرمایا گیا ہے اور ر بوبیت کے بعد رحمان اور رحیم رکھا گیا ہے یہ رحمت ایمانی حالت سے تعلق رکھتی ہے۔تو یہ جو صفات باری تعالیٰ ہیں، یہ اسماء کہلاتے ہیں یہ صفات اور اسماء کا علم جو ہے وہ سب سے بڑھ کر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو عطا ہوا اور اس میں کوئی ادنی بھی شک یا اختلاف کی گنجائش ہی موجود نہیں۔اسی لئے میں نے گزشتہ خطبے میں بیان کیا تھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ نے آدم کے حوالے سے جو اسماء بیان کئے ہیں وہ دنیا کی زیادہ تر باتیں ہیں۔قریب تر جو دین کی بات اس حوالے سے بیان فرمائی ہے وہ بھی خالق کے اسماء کے طور پر نہیں بلکہ مخلوق کے بہترین اسماء کے