خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 173
خطبات طاہر جلد 14 173 خطبہ جمعہ 10 / مارچ 1995ء صرف منع نہیں ہے بلکہ حکم ہے کہ ضرور کرو۔قَدْ جَاءَ كُمْ بَصَابِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ جو غور کرے گا اسے ضرور فائدہ پہنچے گا۔پس اسماء باری تعالی یعنی صفاتِ الہی پر غور کر کے اس سے فائدہ اٹھانا ، یہ ایک لازوال مضمون ہے جو ہمیشہ جاری رہے گا۔مگر ضروری ہے کہ قرآن کے مطابق جہاں جہاں خدا خود ہمارے سامنے بصائر لے کر آیا ہے ان حدود میں رہ کر اس پر غور کریں۔تو اب چونکہ وقت ہو چکا ہے اس لیے انشاء اللہ باقی حصہ جو ہے اس میں اور بھی بہت سے پہلو ہیں ، میں کوشش یہی کروں گا کہ اگلے خطبے تک یا زیادہ سے زیادہ اس سے اگلے خطبے تک اس مضمون کو ختم کروں اس لئے نہیں کہ مضمون ختم ہو سکتا ہے۔اس لئے کہ پھر ان عمومی دائروں کو بیان کر دوں گا جن کی حدود میں رہتے ہوئے آپ کو غور کرنا چاہئے اور جو تعلق اپنے غور سے ہوتا ہے وہ بیان کردہ غور سے نہیں ہوتا۔اس لئے تعلق باللہ کے لئے ضروری ہے کہ آپ کو اسماء الہی پر غور کی دعوت دوں اور ان خطرات کی نشاندہی کروں جو آپ کے نقصان کا موجب بن سکتے ہیں اگر آپ اپنی چالاکیوں سے خدا کو پانے کی کوشش کریں یا اپنی سوچوں کو قرآن اور حدیث پر حاوی کرنے کی کوشش کریں۔اگر ایسا کریں گے تو سخت ٹھوکر کھائیں گے اور ہمیشہ کے لئے ہلاکت بھی اس کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔مگر سوچ ضروری ہے اور اس سوچ کے نتیجے میں آپ جوں جوں خدا تعالیٰ کی ہستی کے قریب آئیں گے آپ کے اندر نئی تخلیق ہوگی۔یہ وہ مضمون ہے جو شان کا مضمون ہے جو میں آپ کے اوپر کھولنا چاہتا تھا۔کچھ پہلو میں نے بیان کر دیئے ہیں۔کچھ آئندہ بیان کروں گا۔كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ بتا رہا ہے کہ ذات باری سے تعلق رکھو گے تو تمہاری بھی شانیں بدلیں گی جب اس کی ایک شان نئی جلوہ گر ہوگی تو غور کرنے والے پر بھی اس کا اثر پڑے گا اور اس کے اندر بھی ایک نئی روشنی پیدا ہوگی تو لا متناہی روحانی ترقی کے لئے اسماء باری تعالیٰ پر غور ضروری ہے مگر ان احتیاطوں کے ساتھ جو قرآن نے اور آنحضرت ﷺ نے بیان فرمائیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔مگر زمانے کا میں نے آپ کو سمجھا دیا ہے کہ زمانہ پایا بھی جاتا ہے مگر ان معنوں میں جو خدا کی ذات کے منافی نہیں ہیں اور ذات میں اس کی کوئی تبدیلی نہیں ہے اور ہمیشہ کے لئے ویسا ہی ہے۔