خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 172
خطبات طاہر جلد 14 172 خطبہ جمعہ 10 / مارچ 1995ء کو چونکہ اول طاقت ہے اور اس کی سوچ سب سوچوں پر غالب ہے اس لئے فرق یہ ہے اور اسی لئے میں نے آپ کو آیت لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ پڑھ کرسنائی۔دنیا میں جو چیزیں ہیں کچھ نہ کچھ اس طرف اشارے ضرور کرتی ہیں مگر ویسی کوئی چیز نہیں ہے۔ازل بھی کسی کو حاصل نہیں وہ اسی کو حاصل ہے ازل کے بغیر ہمارا چارہ ہی کوئی نہیں ہے ہم اس دنیا کو ازل پر غور کئے بغیر تسلیم ہی نہیں کر سکتے اور دنیا ہے ہم جانتے ہیں۔تو آغا ز کیسے ہوا اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ تمام توانائی میرے ارادے میں ہے اور ارادہ جب بنتا ہے تو از خود وہ توانائی کی شکلوں میں ڈھل جاتا ہے۔اگر آپ یہ سمجھیں کہ یہ خواب ہے تو یہ ایسی خواب ہے جو ہر اس جز کو جو خواب نے پیدا کیا ایک دوسرے کا شریک بنارہی ہے سوچوں میں اور اس کا ظاہر جو ہے وہ اتنا قوی دکھائی دے رہا ہے جیسے ہو۔اسی خیال کی وجہ سے بہت سے فلسفی ہر چیز کو تو ہم ہی بیان کرنے لگ گئے۔تو فلسفی نے جو ٹھوکریں کھائی ہیں وہ قرآن کریم سے استفادہ نہ کرنے کی وجہ سے ٹھوکریں کھائی ہیں۔اگر قرآن کریم میں جو صفات کا بیان ہے اس پر غور کرتے تو پھر خدا تعالیٰ کی ہستی کو سمجھنے میں اور اسماء پر غور کرنے میں ان کے لئے کسی ٹھوکر کا سامنا نہ ہوتا، وہ صحیح طریق پر جہاں تک خدا چاہتا ان بصائر سے فائدہ اٹھا سکتے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قَدْ جَاءَكُمْ بَصَابِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ ۚ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ عَمِيَ فَعَلَيْهَا وَمَا اَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيظ کہ دیکھو خدا کی طرف سے بصائر آچکے ہیں۔ط لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ اس کو تم سمجھنا چاہتے ہو مگر اتنے عاجز ہو کہ ناممکن ہے کہ تم اپنی سوچوں کے ذریعے خدا تک پہنچ سکولیکن تعلق ضرور قائم ہو گا وہ اس طرح قائم ہو گا کہ خدا تم تک پہنچے گا اور خدا تم تک پہنچ چکا ہے۔اس حد تک پہنچ چکا ہے جس حد تک تمہارے لیے سمجھنا ضروری تھا اور جس حد تک تمہاری حد استطاعت اجازت دیتی ہے۔پس اس پر غور کرو گے تو تمہارا فائدہ ہے۔پس وہ غور خدا پر منع نہیں ہے جو غور قرآن کریم کے بیان کے مطابق ہو اور آنحضرت ﷺ کے فہم قرآن کے مطابق ہو اور اس دور میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو آدم ثانی بنایا گیا ہے آپ کو بھی اسماء کا علم عطا فرمایا گیا ہے۔اس علم کی وساطت سے اسماء کو سمجھنا، اس پر غور کرنانہ