خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 12
خطبات طاہر جلد 14 12 خطبہ جمعہ 6 جنوری 1995ء تمہارا واپس کرے گا ، اس سے زیادہ دے گا اور پھر مغفرت کا قرضہ اس پر باقی رہے گا اور اس وقت وہ مغفرت کا قرضہ کام آئے گا جبکہ تمہارے مال دولت کی ویسے ہی کوئی اہمیت نہیں رہی وہاں محض فضل ہی فضل ہوگا۔وَاللهُ شَكُورٌ حَلِيمٌ اللہ تعالیٰ بہت ہی شکر یہ ادا کرنے والا یعنی شکر گزاروں کی قدر کرنے والا ہے اور حلیم ہے، بہت بردبار ہے، اسے کوئی جلدی نہیں ہے، باوقار ہستی ہے اور جب چاہے تو بڑے بڑے گناہوں کو بھی معاف فرما سکتا ہے، ان سے صرف نظر فرما سکتا ہے۔پس یہ وہ آیات ہیں جن کا نظام جماعت کے مالی حصے سے ایک اٹوٹ تعلق ہے کبھی تو ڑا جاہی نہیں سکتا۔وقف جدید کے معاملے میں بھی جو اللہ تعالیٰ نے برکتیں ڈالی ہیں وہ حیرت انگیز ہیں اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ باوجود اس کے کہ ایک زائد تیسرے درجے کی تحریک تھی جس سے بہت بالا اور مضبوط مالی نظام انجمن کے با قاعدہ مستقل چندوں کی صورت میں قائم تھا وصیت کا نظام تھا، چندہ عام کا نظام تھا اور پھر تحریک جدید کو غیر معمولی اہمیت تھی اور تحریک جدید کی برکت سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا میں بہت خدمت اسلام ہوئی۔تو تیسرے درجے کی تحریک جس کا آغاز میں تعلق محض پاکستان اور بنگال کے دیہات سے تھا لیکن دیکھیں اللہ تعالی برکتیں کتنی ڈالتا ہے۔اس سے پہلے میں یہ Figures آپ کے سامنے پیش کروں میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ جماعت کے اندر جو مالی قربانی کا جذبہ ترقی کا ہے وہ ایک دور ایسا تھا کہ تبلیغ کی رفتار سے بہت زیادہ تیز رفتاری سے آگے بڑھا رہا تھا۔اب وہ دور آگیا ہے کہ تبلیغ کی رفتار اس کو چیلنج کر رہی ہے اور اس سے آگے بڑھ کر وہ بہت تیز قدموں کے ساتھ اسلام کا پیغام دنیا میں پھیلا رہی ہے اور پھر ان کے توازن کا دور آئے گا تو پھر آپ کے جو چندے ہیں ان میں انقلاب بر پا ہو جائے گا۔چوٹی سے اور چوٹیاں اٹھیں گی لیکن اس وقت ہم اس دور میں داخل ہوئے ہیں کہ مالی قربانی کا نظام مستحکم ہو گیا وہ چل پڑا اپنے پاؤں پر کھڑا بھی ہوا اور پھر دوڑ پڑا اور اب تبلیغ کا دعوت الی اللہ کا نظام بیدار ہو کر جیسے دیر سے اس کو ہوش نہ ہو، ہوش میں آ رہا ہے کہ او ہو یہ تو بہت آگے نکل گئے ہیں۔وہ دوڑ دوڑ کے پھر آگے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے اور مجھے لگ رہا ہے کہ نکل چکا ہے لیکن کچھ عرصہ ہو گا کہ ان لوگوں میں سے پھر مالی قربانی کرنے والے لوگ پیدا ہونا شروع ہوں گے اور اچانک جماعت کے مالی نظام میں غیر معمولی