خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 11 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 11

خطبات طاہر جلد 14 11 خطبہ جمعہ 6 جنوری 1995ء ضرورت پیش آسکتی ہے تو یہ تو نہیں کہ خدا کو ضرورت ہے مگر قرض کا مفہوم دے کر یہ بتایا کہ تم کوئی احسان نہیں کر رہے اپنی جماعت پر یا خدا کا تصور براہ راست اگر نہ داخل کریں تو یہ مضمون بنے گا کہ جماعت مسلمہ پر تم کوئی احسان نہیں کر رہے یہ تو ضرور واپس ہوگا جو اصل ہے اور جہاں تک خدا کے کاموں کا تعلق ہے وہ بڑھایا کرتا ہے مگر ان کے لئے ہے جن کی نیتیں پاک ہوں جو جذبہ محبت سے خرچ کریں اور قربانی کی روح سے خرچ کریں۔پس ایسے لوگ جو اپنے غریب بھائیوں کو قرضہ دیتے ہیں اور اس نیت سے دیتے ہیں کہ ان کی بھلائی ہو اگر ہمیں کچھ نگی پڑتی بھی ہے تو کوئی حرج نہیں ان کا جو جذ بہ ہے وہ بہت ہی قابل قدر بن جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تو بہت ہی قدردان ہوں اس جذبے سے اگر تم قرض دو گے لالچ کی وجہ سے نہیں کرو گے تو پھر میرا دستور یہ ہے، یہ نہیں فرمایا میں وعدہ کرتا ہوں، فرمایا اللہ ایسا کرتا ہے اور کرے گا اور اس شرط کے ساتھ کرے گا تُضحِفهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ تمہارے لئے بڑھائے گا بھی اور اس سے بڑی بات یہ کہ تمہاری بخشش کے سامان کرے گا۔اب اگر مالی قربانی ایسی ہو کہ اس سے برکت بھی پڑے اور یقین ہو کہ مغفرت ہوگی تو یہ ایک بہت ہی پاکیزہ اور ہر سودے سے اچھا سودا ہے۔جس خرچ کے نتیجے میں مغفرت ہو جائے۔وہ اس لئے ضروری ہے کہ اگلی دنیا کے متعلق اللہ فرماتا ہے کہ وہاں کوئی پیسہ کام نہیں آئے گا وہاں مغفرت کا خرچ سے کوئی تعلق نہیں رہے گا۔تو ہمارے دن کتنے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت کے سودے کی خاطر اپنا مال خرچ کریں۔موت کا کوئی وقت مقرر نہیں اور ایک دفعہ مر گئے تو سارا مال یہیں دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے اور پھر اس دنیا میں کام ہی نہیں آسکتا۔تو مغفرت کا تعلق تو ہر شخص کے ساتھ ہے اور مغفرت کی خاطر خرچ کرنا یہ لالچ حرص نہیں ہے۔یہ ایک ایسی طبعی ضرورت ہے جو ہر انسان کو لاحق ہے ہر انسان سے وابستہ ہے۔تو حرص کا جہاں تک تعلق ہے کوئی غرض کا تعلق ہے اللہ نے فرما دیا کہ مغفرت کی حرص رکھا کرو۔یہ سوچا کرو کہ میں اللہ کی خاطر خرچ کرتا ہوں بڑھے یا نہ بڑھے میری بخشش کا سامان ہو جائے اور خدا وعدہ فرماتا ہے کہ بخشش کا سامان تو ہوگا لیکن اس سے پہلے میں تمہارے مال بھی بڑھا چکا ہوں گا۔کتنا عجیب سودا ہے۔يُضْعِفُهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ تم مغفرت کی خاطر کرتے ہو خدا اتنا محسن ہے،