خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 10
خطبات طاہر جلد 14 10 خطبہ جمعہ 6 / جنوری 1995ء فرمائے گا۔یہاں قرضہ حسنہ کی کیا بحث ہے؟ سوال یہ ہے کہ قرض خالی بھی تو کہا جاسکتا تھا لیکن قرضہ حسنہ کی اصطلاح خدا کو قرض دینے کے سلسلے میں کیوں استعمال فرمائی گئی ؟ اصل بات یہ ہے کہ جب بھی کوئی انسان اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو بسا اوقات دنیا میں اس کے مال بڑھا دیتا ہے اور بڑھاتا تو ہمیشہ ہے لیکن کبھی جلدی کبھی دیر کے بعد۔بعض لوگوں سے یہ سلوک ہوتا ہے کہ وہ ادھر دیا ادھر مال میں برکت پڑ گئی۔ادھر دیا ادھر ایک چٹھی آئی کہ تمہارا اتنا پیسہ پڑا ہوا تھا تو اس سے یہ حرص پیدا ہو سکتی ہے کہ چندہ دیتے وقت انسان بڑھانے کے خیال کو دل میں جمادے کہ اب میں نے چندہ دینا ہے ضرور بڑھے گا۔تو اللہ فرماتا ہے کہ دیتے وقت اپنی نیتوں کو صاف رکھا کرو، اس میں بڑھانے کا تصور نہ رکھا کرو۔خدا کی خاطر قربانی، اس کی رضا کی خاطر خرچ کیا کرو۔یہ قرضہ حسنہ ہے اور جہاں تک اللہ کا تعلق ہے وہ تو بڑھاتا ہے ہی۔تم قرضہ حسنہ دو گے تو وہ کون سا اتنا ہی تمہیں واپس کرے گا۔خدا کی سنت یہ ہے تُضْعِفُهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ تم قرضہ حسنہ دو گے تو بڑھائے گا اور تمہارے لئے بخشش کا سامان کرے گا۔اب اس میں ایک عجیب شرط داخل فرما دی یعنی بڑھانے کا وعدہ ان سے ہے جو قرضہ حسنہ دیں گے۔جو حرص میں دیں گے ان کے ساتھ وہ وعدہ نہیں ہے بڑھا دے تو اس کی مرضی ہے، مالک ہے لیکن یاد رکھنا جو برکت والا وعدہ ہے کہ تم پر فضل فرمائے گا اور بڑھائے گا وہ اسی صورت میں ہے کہ تمہارے دل میں حرص نہ ہو بلکہ اللہ کی محبت اور اس کی رضا کی خاطر قربانی ہو اور یہ قرضہ حسنہ ہے۔قرضہ حسنہ میں قرض کا مفہوم بھی داخل فرما دیا اور یہ عجیب بات ہے کہ قرض کے دوہی پہلو ہیں ایک وہ قرض ہے جس میں آپ ضرور کچھ نہ کچھ حرص رکھتے ہیں اور حرص کی وجہ سے بہت سے لوگ قرض دیتے اور بہت سے لوگوں کے قرض ضائع بھی چلے جاتے ہیں اور ایک وہ پہلو ہے کہ کوئی حرص نہیں بلکہ بعض دفعہ نقصان کا خطرہ ضرور پیش نظر ہوتا ہے بلکہ اکثر اوقات رہتا ہے،اس کے باوجود دیتے ہیں۔یہ جو دینا ہے یہ غیر معمولی اعلیٰ نیت کے سوا، پاک نیت کے سوا ممکن ہی نہیں ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم نے قرض دینا ہے، یہ تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ ایسی چیز نہیں ہے جس کی خدا کو ضرورت ہے۔ضرورت کا تصور مٹانے کے لئے لفظ قرض استعمال فرما دیا کیونکہ قرض لینا کسی کی عظمت اور اس کی بڑائی کے خلاف نہیں ہے۔آنحضرت ﷺ نے کبھی کسی سے مدد نہیں مانگی مگر قرضے لئے۔وقتی طور پر ایک