خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 128
خطبات طاہر جلد 14 128 خطبہ جمعہ 17 فروری 1995ء توفیق دے رہا ہے۔میں نے دیکھا بعض چہروں پر تعجب تھا کہ ہم کسی شمار میں ہی نہیں ہیں، آپ بھی قربانی کر رہے ہیں لیکن سب سے زیادہ جرمنی کی جماعت کو توفیق مل رہی ہے۔تو اس لئے گزارہ تو چل رہا ہے۔مگر اس خرچ کو اس وقت آٹھ گنا کرنے کی توفیق نہیں ہے۔جب ایسا زمانہ آئے گا ایک ٹرانسپانڈنٹ نہیں پورے کے پورے سیٹلائٹ جماعت کے ہوں گے تو ان کے سارے چینلز پہ انشاء اللہ علوم کے دریا بہیں گے مگر وہ وقت ابھی نہیں آیا ، ابھی تو جو مہیا ہے اسی سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کر نالا زم ہے۔اور ایک شخص کہے گا کہ جی اردو تو سمجھ آگئی لیکن انگریزی میں یا فلاں زبان میں ابھی تک پوری طرح بات سمجھ نہیں آرہی کیونکہ اسی تصویر سے ایک انسان اپنی طرف سے اس میں مطالب بھرنے کی کوشش کرتا ہے۔تو ان کو میں بتاتا ہوں کہ صبر سے کام لیں ضرور سمجھ آجائے گی ، بار بار سننا پڑتا ہے۔اتنی دفعہ سمجھایا ہے کہ بچے کو سمجھ لیں۔ماں باپ ایک بچے پر جب زور لگاتے ہیں تو ایک تو یہ کہ ، ان کو لگتا ہے کہ بڑی مصیبت پڑی ہوئی ہے کوئی مصیبت نہیں۔ماں باپ کو تو اتنا مزہ آتا ہے بچے کو زبان سکھانے کا کہ اس کے تو تلے منہ سے جب ایک آدھ فقرہ سنتے ہیں تو اسی پر عش عش کر اٹھتے ہیں اور بعض مجھے سنانے کے لئے کہ بچے نے کلمہ پڑھا ہے تو میرے پاس لے آتے ہیں ملاقات کے وقت نہیں نہیں یہ تو آپ کو سنانا ہی ہے یہ اس بچے نے کلمہ سیکھ لیا ہے اور مجھے چونکہ بتاتے ہیں کہ کلمہ ہے اس لئے اعتماد ہے کہ کلمہ ہی ہوگا لیکن ”مت مت ہوتا ہے بس اور کچھ بھی نہیں ہوتا اس میں۔تو سکھانے والا پھل دیکھتا ہے تو کچا کھٹا پھل بھی اس کو اچھا لگتا ہے۔زبانیں اسی طرح ماں باپ سکھاتے ہیں ہم بھی جو کوشش کر رہے ہیں آپ یہ سمجھ لیں کہ پروفیشنل میں نہیں ، ایک غریبانہ کوشش ہے مگر فائدہ ضرور ہوگا اور ہونا شروع ہو چکا ہے۔ہماری کلاسیں جواب تک پینتالیس ہو چکی ہیں ان میں سے کچھ ایسے تھے رشین زبان جاننے والے، عربی زبان جاننے والے بعض دوسری زبانیں جاننے والے، افریقن زبانیں جاننے والے، اردو کی ایک لفظ نہیں سمجھ آتی تھی، اب اللہ کے فضل سے لطیفے سنتے ، Enjoy کرتے ، کہانیاں سنتے اور سمجھتے اور باتوں کا جواب صحیح دیتے ہیں اور پینتالیس سبق ہیں صرف۔یہ پینتالیس سبق زیادہ عرصے پر پھیلے ہوئے ہیں درست ہے لیکن انہوں نے تو صرف پینتالیس ہی سنے ہیں نا۔جب آپ ان کو سنیں گے تو پینتالیس دن میں ایک ایک گھنٹہ بھی روزانہ دیں تو آپ کو دوسری زبانیں بھی