خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 127
خطبات طاہر جلد 14 127 خطبہ جمعہ 17 فروری 1995ء بات یہ ہے کہ وخت نہیں ہے۔یہ اللہ کی طرف سے ایک ذمہ داری ہے اور وہی ذمہ داری ہے جس کا اس حدیث میں ذکر آیا ہے، قرآن کریم کی ان آیات میں ذکر آیا ہے اور آپ کو جو لگتا ہے کہ وخت پڑا ہوا ہے وہ وخت ہے ہی نہیں کیونکہ وہ شخص جس کا ایک کام سے عشق ہو وہ جب کام کرتا ہے تو اس کو لطف آرہا ہوتا ہے دیکھنے والے وخت سمجھتے ہیں۔حالانکہ میں نے دیکھا ہے کہ بعض بنئے قادیان کے زمانے میں، ہندوستان میں ابھی بھی بعض دفعہ چونکہ قانون کی پابندی نہیں ہے کہ کب دکانیں بند کی جائیں اب بھی بعض دفعہ وہاں دکانیں رات گیارہ گیارہ بارہ بارہ بجے تک کھلی رہتی ہیں اور اس کے بعد پھر وہ بنے بیٹھتے ہیں اور اپنے سارے حساب کتاب، اپنے سارے کھاتے مکمل کر کے، بند کر کے ، نفع نقصان کا حساب پائی پائی کا کر کے پھر وہ رات کو گھر جاتے ہیں۔اب کوئی آدمی کہے کہ جی وخت پایا ہے بیچارے نے حالانکہ ” وخت شخت کوئی نہیں اس کی تو زندگی کا مزہ ہی یہ ہے تو جس کو دولت سے عشق ہے اس کے تو مزے کے لمحات ہی وہ ہیں اس کی ثواب کی دنیا ہی وہی ہے جو آخر پر بیٹھ کے حساب کر رہا ہے کہ کتنا منافع ہو گیا۔کہاں کیا ہوا، کوئی چیز ضائع تو نہیں ہوئی۔تو اپنی دنیا یہ بنا لیں جو علم کی دنیا ہے جو محمد رسول اللہ اللہ کے فیوض کی دنیا ہے اور اس سے محبت پیدا کر لیں تو نہ مجھے وخت پڑے گا نہ آپ کو وخت پڑے گا اور جو مجھے وخت پڑا ہے۔کچھ آپ نے بھی تو ڈالا ہوا ہے۔سمجھتے کیوں نہیں کہ یہ کام بڑے ضروری ہیں انہیں بہر حال ہمیں کرنا ہے۔اب آپ کہیں گے کہ اس ذریعے سے ہر زبان سکھانی مشکل کام ہے۔مجھے منظور ہے لیکن اس کا متبادل کیا ہے۔ہر زبان الگ الگ تیار کی جائے اس سے بہتر متبادل کوئی نہیں مگر اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم ایک چینل پہ اب آٹھ زبانیں ایک ہی پروگرام سے سکھاتے ہیں تو پھر آٹھ گنا وقت چاہتے ہیں اور اگر ایک گھنٹہ روز زبان سکھانے پر لگایا جائے تو جیسا کہ ہم نے سولہ زبانیں چنی ہیں ابتداء پہلے آٹھ ہوں گی پھر اس کے بعد آٹھ اور داخل کر دی جائیں گی تو ان سولہ زبانوں کے لئے سولہ گھنٹوں کا پروگرام یہ چاہئے اور اگر ہم ساتھ ساتھ جاری کریں تو دو گھنٹے میں یہ سارا کام ہو جاتا ہے اور ٹیلی ویژن کا گھنٹہ بہت مہنگا ہوتا ہے۔آپ کو اندازہ نہیں ہے۔یہ باتیں میں آپ کو پوری بتا تا نہیں مگر اللہ نے توفیق دی ہے تو کام چل رہا ہے۔خدا کے فضل سے جرمنی کی جماعت نے بڑا حصہ لیا ہے اور بھی جماعتیں پاکستان کی قربانی کر رہی ہیں۔مشرق وسطی کی جماعتیں بھی قربانی کر رہی ہیں تو اس لحاظ سے انگلستان کو بھی اللہ