خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 126 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 126

خطبات طاہر جلد 14 126 خطبہ جمعہ 17 فروری 1995ء اس لئے ان پر کوئی شکوہ نہیں لیکن جواب دینا اور سمجھانا تو بہرحال میرا کام ہے اس لئے میں بڑے ٹھنڈے دل سے ان کو بتارہا ہوں شکر یہ مگر مجبوریاں ہیں۔ایک موقع پر تو ایک تنقید ملی تو اس پر مجھے یہ شعر یاد آ گیا۔کہ اے موج بلا ان کو بھی ذرا دو چار تھیڑے ہلکے سے کچھ لوگ ابھی تک ساحل سے طوفان کا نظارہ کرتے ہیں (شاعر معین احسن جذبی ) طوفان میں پڑ کے کچھ مدد کریں تو بات بنے۔جس کشتی کو آپ متلاطم دیکھ رہے ہیں، ڈولتی ہوئی دیکھ رہے ہیں، کچھ اس کے لئے آگے بڑھیں تو پھر بات بنے۔کناروں پر سے دیکھ کر تبصرے کر دینا یہ کافی نہیں ہے لیکن ایک اور بھی شعر تھا اس کو چھوڑ کر مجھے یہ کیوں پسند آیا کیونکہ ان کے خلاف دل میں کوئی غصے کا جذبہ نہیں۔تو اس شعر کے پہلے مصرع میں بہت پیاری بات ہے جو میرے دل کو لگتی ہے۔اے موج بلا ان کو بھی ذرا دو چار چھیڑے ” ہلکے سے غصہ نہیں ہے صرف نمونہ چاہتے ہیں ہم۔تو اس لئے عمد امیں نے اس مضمون کے فارسی کے دوسرے شعر بھی ہیں وہ چھوڑ کر اس کو اس ہلکے کی وجہ سے چنا ہے۔تو کچھ ہلکا سا آپ بھی تجربہ کر لیں۔اپنے نام پیش کریں۔ان منتظمین کے حضور جنہوں نے ان کاموں کو اپنے ملکوں میں جاری کرنا ہے اور پھر دیکھیں اگر اچھے پروگرام بنیں گے تو سو بسم اللہ ، بہت خوشی کی بات ہے۔مگر یہاں کے پروگرام بھی اللہ کے فضل سے چونکہ مسلسل نظر ہے کوشش ہے وہ بہتر ہوں گے۔ایک تبصرہ آیا تھا کینیڈا سے کہ ”جی وخت پایا اے اپنے آپ نوں یعنی زبان کے معاملے میں تبصرہ بڑا دلچسپ ہے لیکن زیادہ گہرا ہے۔یہ وخت پانے کا جو مضمون ہے یہ ایک Attitude کو بھی ظاہر کرتا ہے۔قرآن کلاس پر یہ تبصرہ نہیں آسکتا کبھی اور ہومیو پیتھک کلاس پر بھی نہیں آیا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض تبصرہ کرنے والوں کے نزدیک اس کی اہمیت ہی کچھ خاص نہیں ہے۔وخت پانے کا تصور اہمیت سے منسلک ہے اگر ایک اچھی اعلیٰ چیز کے لئے ایک انسان زور مار رہا ہے اور کوشش کر رہا ہے تو اس پر تبصرہ نگار جو اس کی اہمیت کو سمجھتا ہو’ وخت پانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔یہ چونکہ اردو کلاس ہو رہی ہے اس کو ویسے کچھ نہ کچھ آتی ہے، کافی آتی ہوگی شاید لیکن وہ سمجھتا ہے خواہ مخواہ مصیبت پڑی ہوئی ہے۔بے وجہ ہی زور مارر ہے ہیں، سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں، اگلا سمجھتا نہیں، کس مصیبت میں مبتلا ہو گئے۔