خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 7
خطبات طاہر جلد 14 7 خطبہ جمعہ 6 جنوری 1995ء کوئی پیدا کر کے دکھائے کہ جن کی جانیں واپس کی جائیں تو وہ روتے ہوئے واپس جائیں یہ بھی تو قرآن کی گواہی کے مطابق وہی پہلی رسم ہے جو دوبارہ زندہ ہوئی ہے۔قرآن کریم ایسے لوگوں کا ذکر جانی قربانی کے سلسلے میں فرماتا ہے کہ ایسے لوگ محمد رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے جو میدان میں جہاد کی طرف جا کر اپنی جانیں شمار کرنا چاہتے تھے اور رسول کریم ﷺ نے یہ کہہ کر انکار فرما دیا کہ میرے پاس سواریاں نہیں ہیں ، دور کا سفر ہے ، میں تمہیں کیسے لے جاؤں؟ قرآن کریم فرماتا ہے کہ اس حال میں لوٹے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے کہ ہمارے پاس اتنا بھی نہیں ہے کہ ہم خدا کے حضور اپنی جان پیش کر سکیں۔واقعہ ایسی باتیں آج کے زمانے میں اگر دہرائی جارہی ہیں تو جماعت احمدیہ میں دہرائی جارہی ہیں۔وقف کی تحریک ہوئی، ایک موقع پر آکے میں نے کہا، بس اب وہ مدت گزرگئی ہے، اب اور وقف قبول نہیں ہوگا۔ایسے بے قرار ، روتے ہوئے خط ملے ہیں عورتوں کے ، ایسی بچیوں کے جن کی شادی بھی نہیں ہوئی تھیں بلکہ مشکل سے شادیوں کی عمر کو پہنچی تھیں کہ ہم تو آرزوئیں لئے بیٹھے تھے کہ خدا کبھی ہمیں بڑا کرے گا اور ہمیں توفیق دے گا تو ہمارے بچے بھی اسی طرح وقف نو میں شامل ہوں گے جیسے پہلوں کے ہوئے ، آپ نے رستہ بند کر دیا، میں نے کہا میں کون ہوتا ہوں اب تمہارے رستے بند کرنے والا۔یہ اللہ کے فضل سے اخلاص کا دریا جاری ہوا ہے اور میری نیت پہلے یہی تھی کہ کچھ وقت کے لئے ہواب میں اسے ہمیشہ کے لئے جاری سمجھتا رہوں گا اور یہی جماعت کرے گی ، تو وہ کون سا دریا تھا ، ان کے آنسوؤں کا دریا جو اخلاص کی صورت میں پھوٹتا تھا وہ دعائیں بن گیا خدا نے میرے دل کو تبدیل فرما دیا۔کہا کوئی فیصلہ تمہارا نہیں چلے گا ان کا اخلاص چلے گا اور وہ تحریک جاری ہو گئی۔تو یہ وہ مضمون ہے کہ اِنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَاَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ - اور مال کی قربانیوں میں بھی میں نے بارہا مثالیں پیش کی ہیں۔بعض لوگ دیتے ہیں ، دل پہ بہت بوجھ پڑتا ہے کہ ان کے پاس کچھ نہیں ہے اتنا زیادہ دے رہے ہیں۔بعض دفعہ زبر دستی واپس کرنا پڑتا ہے اور بسا اوقات تو نہیں لیکن کبھی کبھی میں مجبور ہو جاتا ہوں بالآخر۔میں کہتا ہوں اچھا ٹھیک ہے اور پھر خدا ان کو اور برکتیں دیتا ہے کیونکہ اس کی جزا بھی خدا نے دینی ہے۔اللہ تعالیٰ آگے فرماتا ہے وَاسْمَعُوا وَ اَطِيْعُوا سنوسنو! اور اطاعت کرو یہ بحثوں کا