خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 112 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 112

112 خطبہ جمعہ 17 فروری 1995ء خطبات طاہر جلد 14 کو خوشخبری دے دو بِأَنَّ لَهُمْ مِنَ اللهِ فَضْلًا كَبِيرًا کہ ان کے لئے اللہ کی طرف سے بہت فضل ہے۔علم کے سلسلے میں جو میں نے خطبوں کا آغاز کیا ہے اس میں میں نے گزارش کی تھی کہ آئندہ انشاء اللہ یہ جو MTA کے بعض پروگرام ہیں ان سے متعلق میں خطبے میں بعض اہم امور بیان کروں گا مگر اس سے پہلے یہ حدیث میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جو بخاری کتاب العلم باب فضل من علم وتعلم سے لی گئی ہے یعنی کتاب علم ہے اور اس میں باب ہے اس شخص کا فضل، اس کا مرتبہ اور دوسروں پر اس کی فوقیت جو سیکھتا بھی ہے اور سکھاتا بھی ہے۔یہ وہ مضمون ہے جس کے پہلے میں چندا حادیث بیان کر چکا ہوں اور اسی کی روشنی میں انشاء اللہ آئندہ آپ کو آپ کی ذمہ داریاں سمجھاؤں گا۔حدیث یہ ہے: عن ابي بردة عن ابى موسى عن النبي عل الله قال مثل ما بعثني الله به من الهدى والعلم كمثل الغيث الكثير اصاب ارضا فكان منها تقية قبلت الماء فانبتت كلأ والعشب الكثير وكانت منها اجادب امسكت الماء فنفخ الــلــه بـهـا الـنـاس فـشــربـوا وسقوا وزرعوا واصابت۔۔۔الخ۔( بخاری کتاب العلم) یہ جو حدیث ہے اس کا ترجمہ یہ ہے کہ بعثنی اللہ مجھے جو اللہ نے مبعوث فرمایا ہے من الهدى والعلم ہدایت میں سے دے کر اور علم میں سے کچھ عطا فرما کر۔یہ من کا جو لفظ ہے یہ بعض دفعہ کچھ کے لئے استعمال ہوتا ہے بعض دفعہ بہت بڑا ایک حصہ عطا کیا گیا ہو تو اس کے لئے بھی محاورہ استعمال ہوتا ہے۔اس میں سے یعنی میں اس کا ترجمہ یوں سمجھتا ہوں کہ من الهدى والعلم کہ بہت بڑی ہدایت اور بہت بڑے علم سے جو کچھ مجھے عطا ہوا ہے کمثل الغیث اس لئے یہ ترجمہ درست ہے کہ آگے مثال غیث کی دی جارہی ہے۔بظاہر مسن کا مطلب ہے اس میں سے کچھ مگر اتنا عطا فرمایا ہے کہ جیسے موسلا دھار بارش برسے، بڑی کثرت کے ساتھ۔اصاب ارضا اور وہ زمین کو پہنچے اور زمین کو اپنے فیض سے بھر دے۔یہ بیان فرمانے کے بعد کہتے ہیں مگر زمینیں تین قسم کی ہیں۔کچھ ایسی ہیں جو تقی ہیں ، جو صالح ہیں۔ان میں چیز کو قبول کر کے اس کے فیض کو اپنی ذات میں جاری کر