خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 111
خطبات طاہر جلد 14 111 خطبہ جمعہ 17 فروری 1995ء توحید کا ایک منظر اس زمین پر پیش کریں MTA پر زبانوں کے پروگرام بنانے کیلئے ہدایات ( خطبه جمعه فرموده 17 فروری 1995ء بمقام بيت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ تلاوت کیں۔يَا يُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَدَاعِيًا إلَى اللهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ بِأَنَّ لَهُمْ مِنَ اللهِ فَضْلًا كَبِيرًا ( الاحزاب : 4846) پھر فرمایا:۔ان آیات کا ترجمہ یہ ہے کہ اے نبی ! ہم نے تجھے گواہ اور نگران بنا کر بھیجا ہے اور خوشخبریاں دینے والا بنا کے بھیجا ہے اور ڈرانے والا بنا کے بھیجا ہے وَدَاعِيَّا إِلَى اللهِ اور اللہ کی طرف دعوت دینے والا بِاِذْنِہ اس کے حکم کے ساتھ سِرَاجًا منيرا اور ایسا سورج بنا کر بھیجا ہے جس نے لازماً بالآ خر کل عالم میں چمکتا ہے اور کل عالم کی روشنی اس تیری ذات ہی سے وابستہ کر دی گئی ہے کیونکہ سورج ہی سے سب دنیا روشنی کا فیض پاتی ہے خواہ وہ مشرق کی دنیا ہو یا مغرب کی۔پس اس پیشگوئی کا رنگ بھی یہ تھا کہ کل عالم کے لئے جب تجھے بھیجا گیا ہے تو سراج تو ہے ہی خواہ وہ مشرق کی دنیا ہو یا مغرب کی۔جب تو ان پہ چمکے گا تو وہ نور پائیں گے، جب تک وہ تجھ سے غافل رہیں گے ان کے سینے منور نہیں ہو سکتے۔وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنین اور وہ لوگ جو مومن ہیں، ایمان لے آئے ،ان