خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 107 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 107

خطبات طاہر جلد 14 107 خطبہ جمعہ 10 فروری 1995ء کی تربیت کرے گا، ان کی رہنمائی فرمائے گا جن کو ان کا شعور عطا ہوگا اور پھر محمد رسول اللہ ﷺ کی باتوں کو سمجھ کر اپنے زمانے کو فیض پہنچائیں گے۔پس یہ بھی ایک آنحضرت ﷺ کے دائی معلم ہونے کا ثبوت ہے پہلے لوگوں کے خلاف کوئی گستاخی نہیں کہ وہ نہیں سمجھ سکے تھے آج کیسے بعض لوگ سمجھ گئے اس لئے کہ آنحضرت ﷺ کی باتیں بھی ان خزائن کی طرح ہیں جن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ ہمارے پاس محفوظ ہیں لیکن ہم ان کو نازل کرتے ہیں حسب قدر، حسب ضرورت ، حسب موقع۔جب ضرورت پیش آتی ہے ہم ان خزائن کو اس طرح نکالتے ہیں گویا وہ نازل ہورہے ہیں ، پہلی دفعہ گویا تم نے دیکھے ہیں۔پس جیسی کتاب ہے ویسا ہی رسول ﷺ ہے ویسی ہی گہرائیاں اس کے کلام میں پائی جاتی ہیں۔پس کسی زمانے میں اس کی باتوں کی کنہ کو پالینا نہ پہلوں کی تخفیف ہے، نہ محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ ایسی بات کر دی جو چودہ سو سال سمجھ نہیں آئی آج سمجھ آئی تھی۔اس لئے کہ وہ وقت وہی تھا خدا کے نزدیک اور قرآن کا جو بیان ہے یہ دائمی ہے کہ بعض اوقات بعض خزائن ہیں جو وقت کے اوپر خدا کی تقدیر کے تابع اتارے جاتے ہیں اور روشن کئے جاتے ہیں۔ایک موقع پر ایک صحابی ابوحنیفہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ایک مجمع سا لگا ہوا ہے تو میں نے توجہ کی اپنے والد سے پوچھا یہ کیا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ صحابی عبداللہ بن حارث زبیدی نے یہ مجلس لگائی ہوئی ہے اور رسول اکرم ﷺ کی باتیں کر رہے ہیں۔کہتے ہیں میں دوڑ کر اس مجمع میں داخل ہوا تو سنا کہ یہ کہہ رہے تھے کہ جو شخص بھی تفقہ فی الدین پیدا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے تمام کاموں کا خود متکفل ہو جاتا ہے اور ایسی ایسی جگہوں سے رزق کے سامان مہیا کرتا ہے کہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں۔( مسند الامام الاعظم ، کتاب العلم )۔پس تفقہ فی الدین سے مراد یہ ہے کہ دینی احکام پر غور کرتے رہنا اور ان کی حکمتوں تک رسائی کی کوشش کرنا اور یہ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ کے جو دوسرے پہلو ہیں اس کی طرف توجہ دلانے والی نصیحت ہے۔علم تو ہے لیکن اس علم کی کنہہ ، اس کی غرض وغایت ،اس کے اندرونی راز کن معنوں میں اس کو دوسروں پر چسپاں کیا جاسکتا ہے یا اور دوسری چیزوں پر چسپاں کیا جا سکتا ہے ، بہت وسیع مضمون ہے لیکن خلاصہ یہی ہے کہ علم حاصل کرنا کافی نہیں جب تک اس میں ڈوب کر اس میں مضمر حکمتیں ، اس کے اندر پوشیدہ عقل کی گہری باتوں تک آپ کی رسائی نہ ہو اور فرمایا