خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 6
خطبات طاہر جلد 14 6 خطبہ جمعہ 6 جنوری 1995ء کہ آدھا کر دو۔کسی سے تیسرا حصہ لیا اور باقی چھوڑ دیا۔اس میں حکمتیں کیا ہیں؟ وہ تو اللہ نے بعض میں از خود ظاہر فرما دیں بعض صورتوں میں۔مگر مراد یہی ہے کہ جور سمیں چلیں کہ سب کچھ حاضر کر دو یہ تقویٰ کے معیار سے براہ راست پھوٹی تھیں اور فَاتَّقُوا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُمُ کی ایسی زندہ مثالیں تھیں جنہوں نے دائی ہو جانا تھا ، ان کی نسل سے پھر آگے ایسی مثالوں نے پھوٹنا تھا۔پس جماعت احمدیہ میں جوخدا کے فضل سے یہ عظیم الشان قربانی کے مظاہرے نظر آتے ہیں اس کی وجہ وہی ہے۔پس جماعت احمدیہ کی طرف سے اگر مالی قربانیاں بڑھ رہی ہیں تو یہ اس بات کا ایک پیمانہ ہے کہ اللہ کے فضل کے ساتھ ان کے تقویٰ کا معیار بڑھ رہا ہے، یہ اس بات کا پیمانہ ہے کہ اللہ کے فضل کے ساتھ ان کی حرص کم سے کم تر ہوتی چلی جارہی ہے۔بہت ہی عظیم الشان Tribute جس کو کہتے ہیں ، ایک خراج تحسین ہے ، جو جماعت کی قربانیاں عمومی حیثیت سے جماعت کو دے رہی ہیں، دنیا میں کوئی نہیں ہے جو ایسی جماعت پیدا کر کے دکھا سکے چیلنج ہے کوئی تو آگے بڑھ کر قبول کر کے دکھائے۔بسا اوقات میری گفتگو مستشرقین سے اور بعض بڑے بڑے سوچنے والوں سیہوئی ہے اور ان سے جب میں نے یہ پہلو کھول کر بیان کیا تو بالکل گنگ ہو گئے۔میں نے کہا تم ہوا یجنٹ کسی کے۔الزام لگتا ہے تم پر کوئی ایجنٹ بنا کے تو دکھاؤ کہ جو اپنی جیبوں سے خرچ کر رہے ہوں اور اپنی بقاء کے لئے کسی اور کے محتاج نہ ہوں۔ایسے ایجنٹ پھر پاگل ہی ہوں گے۔تو بہتر ہے پاگل کہا کرو بجائے ایجنٹ کہنے کے۔ایجنٹ پیسے کھاتا ہے اور اگر وہ ایجنٹ نہ بھی ہو تو پیسے مانگ مانگ کے کام کرتا ہے لیکن وہ کس قسم کا ایجنٹ ہے جو اپنا سب کچھ فدا کرتے ہوئے اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کر دیتا ہے، وقف زندگی کے نظام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے جب اس کو قبول نہ کیا جائے تو روتا ہوا احتجاج کرتا ہے اور جب اس کی مالی قربانیاں واپس کی جائیں تو بے چین زندگی گزارتا ہے۔کئی ایسے احمدی ہیں جن کو بعض کمزوریوں کی وجہ سے یہ سزادینی پڑی کہ تم سے چندہ وصول نہیں کیا جائے گا اور آئے دن مجھے خط ملتے ہیں ایک کل بھی ملا تھا کہ خدا کے واسطے بس کریں زندگی بے چین ، بے قرار ہوگئی ہے، لطف اٹھ گیا ہے زندگی کا۔پہلے ہم چندہ دیتے تھے تو اللہ کے احسان سے لطف اٹھاتے تھے کہ خدا نے ہمیں توفیق دی اور باقی مال کھانے کا مزہ آتا تھا اب تو سارا مال حرام لگتا ہے۔تو جس جماعت کا یہ معیار ہو اس کے متعلق کوئی زبان دراز کرتا ہے تو تمہیں کیا فکر ہے اس کی ؟ ایسی جماعت