خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 5
خطبات طاہر جلد 14 5 خطبہ جمعہ 6 جنوری 1995ء دوسری جگہ جگہ بار بار فرماتا ہے کہ فی سبیل اللہ خرچ کرو، فی سبیل اللہ خرچ کرو اور اسے ایک مومن کی سوچ کا ایک لازمی ابدی جز و بنادیا گیا ہے۔آغاز میں ہی مومن کی تعریف متقیوں کی تعریف ہی یہ فرما دی: المن ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِلْمُتَّقِيْنَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ ) وہ لوگ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو ، عبادت کو قائم کرتے ہیں اور تیسری بات وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ جو ہم نے ان کو رزق عطا فرمایا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے چلے جاتے ہیں۔تو قرآن کریم کو جو سمجھتا ہے یا سرسری نظر سے بھی پڑھتا ہے اس کے ذہن میں جماعت کے مالی قربانی کے نظام پر کوئی اعتراض پیدا ہو ہی نہیں سکتا اس کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتا۔اور پھر جیسا کہ میں نے واقعات سے ثابت کیا ہے جہاں حرص کا سوال ہو وہاں مالی قربانی طوعی طور پر مانگی جاہی نہیں سکتی۔حرص کے برعکس مضمون ہے اور یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہاں فَاتَّقُوا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُم فرمایا ہے۔تم نے اموال خرچ کرنے ہیں، بڑی بڑی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہے۔لیکن یا درکھنا کہ تقویٰ کا معیار بڑھاؤ گے تو یہ کر سکو گے ورنہ ہمارے تقاضے پورے نہیں کر سکو گے۔اللہ سے تقویٰ کی استطاعت مانگو۔تقویٰ بڑھے گا تو مال خود بخود پھوٹ پھوٹ کر خدا کی راہ میں نکلیں گے اور یہ ہمارا ساری زندگی کا تجربہ ہے، ساری زندگی کے تجربہ کا نچوڑ ہے کہ جن کا تقویٰ کا معیار بلند ہوتا ہے ان کے دلوں سے پہلے مال پھوٹتے ہیں پھر ان کی جیبوں سے نکلتے ہیں بعض دفعہ ایسا ان میں جوش پایا جاتا ہے کہ زبر دستی روکنا پڑتا ہے۔اور یہ آج کے زمانے کی بات نہیں۔آنحضرت ﷺ کے زمانے ہی میں یہ رسمیں جاری ہوئیں اور انہی کی آگے یہ شاخیں ہیں یا انہی کا ورثہ ہے جو ہم کھا رہے ہیں۔کئی دفعہ ایسا ہوا کہ آنحضور ﷺ کی خدمت میں کسی نے کچھ مال پیش کیا۔آپ نے فرمایا کہ گھر کے لئے کچھ چھوڑ کے آئے ہو کہ نہیں؟ اور بعض دفعہ جواب ہوا کہ یا رسول اللہ اللہ اور رسول کی محبت ، وہی ذکر ہے جو گھر پہ چھوڑ آئے ہیں اور کچھ بھی نہیں۔پھر بعضوں سے قبول کیا اور بعضوں سے قبول نہیں کیا ، بعضوں کو کہا صلى الله