خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 71
خطبات طاہر جلد 13 71 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 جنوری 1994ء تخت اٹھائے ہوئے کہا جاتا ہے وہ حمد وثناء کا تخت ہے ورنہ ظاہری تخت کون سا ہے جس پر خدا بیٹھتا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی اسی مضمون کو بیان فرماتے ہیں اور حضرت داؤڈ بھی یہی کہ رہے ہیں تو جو اسرائیل کی حمد و ثنا پر تخت نشین ہے یہ تیرا عرش اسرائیل کی حمد وثناء پر ہے۔فرماتے ہیں۔دیکھتا ہوں اپنے دل کو عرش رب العالمین قرب اتنا بڑھ گیا جس سے ہے اترا مجھ میں یار (درین صفحہ: 140) کہ میرے قرب کی وجہ سے میرا یار مجھ میں اترا ہے اور خدا کا قرب عرش عطا کرتا ہے یعنی قرب الہی کا بلندی سے ایک گہرا اٹوٹ تعلق ہے پس دل عرش بن جایا کرتے ہیں ورنہ ظاہری طور پر کوئی قرب نہیں ہوا کرتا۔پھر حضرت داؤد کہتے ہیں ”ہمارے باپ دادا نے تجھ پر توکل کیا انہوں نے تو کل کیا اور تو نے ان کو چھڑایا ، یعنی ہم تو وہ لوگ ہیں جو نسلاً بعد نسل تیرے نوکر چلے آ رہے ہیں ”انہوں نے تو کل کیا اور تو نے ان کو چھڑایا انہوں نے فریاد کی اور رہائی پائی انہوں نے تجھ پر تو کل کیا اور شرمندہ نہ ہوئے پر میں نے ، کیڑا ہوں انسان نہیں۔“ کتنا عظیم کلام ہے جو حمد و ثناء کے ساتھ فوراً بجز کی طرف مائل کر دیتا ہے پہلی دعا کا جو انداز تھا بالکل وہی انداز حضرت داؤد کا یہاں بھی ہے۔بظاہر یہ کہہ رہے ہیں جس طرح عام لوگ کرتے ہیں کہ باپ دادا کی خاطر ہی ہمیں معاف فرمادے ہم بھی ان کی عظمتوں کے نشان ہیں۔دادا ہم ” اور میں کس منہ سے مانگوں میں تو کیڑا ہوں ان میں تو نیکیاں تھیں میں انسان نہیں ہوں آدمیوں میں انگشت نما ہوں اور لوگوں میں حقیر میں وہ ہوں جس کی طرف حقارت سے انگلیاں اٹھتی ہیں کہ ذلیل کیڑا ہے اس کو دیکھو۔“ وہ سب مجھے دیکھتے ہیں میرا مضحکہ اڑاتے ہیں وہ منہ چڑاتے ہیں سر ہلا ہلا کر کہتے ہیں اپنے کو خدا وند کے سپر د کر دے وہی اسے چھڑائے جبکہ وہ اس سے خوش ہے تو وہی اسے چھڑائے پر تو ہی مجھے پیٹ سے باہر لایا جب میں شیر خوار ہی تھا تو نے مجھے تو کل کرنا سکھایا۔میں پیدائش ہی سے تجھ پر چھوڑا گیا۔میری ماں کے پیٹ ہی سے تو میرا خدا ہے۔مجھ سے دور نہ رہ کیونکہ مصیبت قریب