خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 15 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 15

خطبات طاہر جلد 13 15 خطبہ جمعہ فرموده 7 / جنوری 1994ء طریق ہے۔آنحضور جسم کے سامنے والے حصے پر جہاں آسانی سے ہاتھ پہنچتے ہیں وہاں تک تبر گا پھیرتے تھے اور ایک علامتی طور پر یہ بات فرمایا کرتے تھے۔تین مرتبہ ایسا کیا کرتے تھے ورنہ دعا تو وہی تھی جو دل سے اٹھتی تھی اور فور قبول ہو جایا کرتی تھی۔حضرت انس بن مالک کی روایت ہے یہ بھی ترندی کتاب الدعوات سے لی گئی ہے کہ جب صلى الله رسول کریم بستر پر تشریف لے جاتے تو یوں خدا کا ذکر کرتے ”سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں کھلایا اور ہمیں پلایا اور ہمارے لئے کافی ہوا اور ہمیں پناہ دی اور کتنے ہی ہیں جن کے لئے کوئی ایسا وجود نہیں کہ ان کے لئے کافی ہو اور انہیں پناہ دے۔(ترمذی کتاب الدعوات حدیث نمبر :3318) سارے دن کے مشاغل کے بعد رات کو دراصل نیند میں انسان تھکاوٹ سے پناہ مانگتا ہے۔ہر قسم کی محنتوں کے بعد اور پھر ہر قسم کے خطرات سے جو پناہ بستر میں ملتی ہے دیسی پناہ کسی اور جگہ نصیب نہیں ہوتی۔سب جانور بھی تھک کر جب اپنے آرام کی جگہ کو پہنچتے ہیں تو وہی ان کی پناہ گاہ بن صلى الله جاتی ہے۔آنحضرت ﷺے دن پر نظر کرتے ہوئے یاد فرماتے تھے کہ ہمیں اللہ نے کھانا کھلایا اللہ ہی نے پلایا اور ہمارے لئے کافی ہوا اور ان پر بھی نظر ڈالتے تھے جن کے لئے وہ کافی نہیں ہوا یعنی اللہ تو ویسے سب کا ئنات کے لئے ہے لیکن وہ لوگ جو خدا سے تعلق تو ڑلیتے ہیں پھر وہ خدا کے ذمے سے نکل جاتے ہیں یعنی عمدا گناہوں میں بڑھ کر بعض دفعہ انسان واقعہ اللہ کے ذمے سے باہر چلا جاتا ہے۔تو ان کا بھی خیال کرتے اور فرماتے کتنے ہی ہیں جن کے لئے کوئی ایسا وجود نہیں کہ ان کے لئے کافی ہو اور انہیں پناہ دے۔پھر حضرت عبد اللہ بن سر جس سے روایت ہے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر تشریف لے جاتے تو کہتے اے اللہ سفر میں تو ہی ہمارا ساتھی ہے یعنی نیند کے ذکر کے بعد اب سفر کے ذکر میں ہم داخل ہوتے ہیں۔ان حدیثوں سے یہ ظاہر ہے کہ سونا جاگنا اللہ ہی کے نام پر ہوتا تھا۔اللہ ہی سے باتیں ہوتی تھیں۔اللہ کے نام سے سوتے تھے اللہ کے نام سے جاگتے تھے اور رات کی جو کیفیت تھی اس میں بھی عام حالتوں کے مقابل پر زیادہ قرب الہی نصیب تھا کیونکہ دنیا سے جب ہم وفات کے بعد عالم برزخ میں جاتے ہیں تو احادیث سے ثابت ہے کہ اگر ہم جنتی وجود ہیں تو ہمیں جنت کی ہوائیں زیادہ ملتی ہیں اور اگر جہنمی وجود ہو تو جہنم کے بھیجھکے بھی پہنچتے ہیں اگر چہ پوری قوت