خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 143
خطبات طاہر جلد 13 143 خطبه جمعه فرموده 25 فروری 1994ء کے ٹھنڈا ہونے کا ذکر ہے۔اس سے یہ مضمون میرے ذہن میں ابھرا جسے میں نے بیان کرنے میں شروع میں دقت محسوس کی کہ یہ آنکھوں کی ٹھنڈک ہے جو طراوت بن کر دل پر اترا کرتی ہے اور اس سے دل اپنی پاتال تک سیراب ہو جایا کرتا ہے۔پس قرآن کریم نے بہت ہی پیارا محاورہ استعمال فرمایا ہے کہ قراۃ العین نصیب ہونے کی دعا مانگا کرو تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے قراۃ العین کے سامان فرما دیئے ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ یہ بڑھتے چلے جائیں گے۔اب میں اس آیت کے مضمون کی طرف آتا ہوں جس کی میں نے تلاوت کی تھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے وہ لو گو جوایمان لائے۔كَثِيرًا مِنَ الْأَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَأْكُلُونَ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ بہت سے ایسے دینی علم رکھنے والے اور بظاہر خدا کی یاد میں الگ ہو جانے والے پیر و فقیر یعنی علماء بھی اور پیر بھی ایسے ہیں کہ لوگوں کا مال باطل سے کھاتے ہیں اور باطل ذریعوں سے لوگوں کا مال کھانے والوں کی علامت کیا ہے؟ وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللهِ وہ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔اس طرح وہ پہچانے جائیں گے اور عجیب بات ہے کہ جماعت کے مخالفین کا رزق اللہ کے راستے سے روکنے میں رکھا گیا ہے۔قرآن کریم نے دوسری جگہ اس مضمون کو بیان فرمایا ہے۔کیا تم تکذیب میں اپنا رزق پاتے ہو، اس لئے تکذیب کرتے ہو کہ یہاں سے تمہیں رزق ملتا ہے، وہی مضمون ہے جسے یہاں باندھا گیا ہے کہ ایسے حرام مال کھانے والے تمہیں بظاہر نیک لوگوں میں ملیں گے۔جبہ پوشوں میں ملیں گے علم کا دعویٰ کرنے والے۔خدا کی خاطر دنیا ترک کرنے والوں میں ملیں گے۔مگر ان کی پہچان کیا ہوگی؟ وہ خدا کے راستے میں روکیں ڈالیں گے اور یہی ان کا اموال کے کھانے کا ذریعہ بن جائے گا۔یہ بات اس میں مضمر ہے لیکن اس کے علاوہ ایک اور گروہ کا بھی ذکر فرمایا ہے وہ ہے۔وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ لیکن کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو کمائی خود کرتے ہوں چاہے حلال ذریعے سے کریں چاہے حرام ذریعے سے کریں مگر مال کی محبت ایسی رکھتے ہیں کہ مال کو جمع کرنا ہی ان کی زندگی کا مقصد بن جاتا ہے۔وہ چاندی اور سونا جمع کرنے میں اپنی عمریں گنوا دیتے ہیں اور ان کی نشانی کیا ہے کہ یہ خدا کو ناراض کرنے والے ہیں؟ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ الله یہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق نہیں پاتے اور یہ وہ دونوں