خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 972 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 972

خطبات طاہر جلد 13 972 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 دسمبر 1994ء شہید ہوئیں لیکن یہ ہنگامی واقعات تھے اگر چہ ہنگامے منظم طور پر شروع کئے گئے اور پھر ان کو با قاعدہ اس طریق پر آگے بڑھایا گیا لیکن یہ جو واقعات ہیں یہ Cold blooded murders ہیں۔جن میں سب کو علم ہے تمام حکومت کے کارندوں کو علم ہے کہ کون بد بخت مولوی ہے جو ایسی سکیمیں بناتا ہے کس طرح وہ غنڈے بھیجتا ہے ، کرائے کے پالتو غنڈے ہوں یا قاتل ہوں جو باہر سے لائے گئے ہوں ان سب کے متعلق سب کو علم ہے اور چونکہ حکومت اس بارے میں قطعاً کسی اقدام کے کرنے کے لئے تیار نہیں ہے اور وہ مخلص پولیس کے یا بعض دفعہ فوج کے کارکنان جوایسے موقع پر بیچ میں ملوث ہوئے ہیں اور انہوں نے غیر معمولی ہمدردی کے ساتھ احمدیوں کے مظلوموں کی تائید کرنے کی کوشش کی ہے کچھ دن کے بعد انہوں نے اپنے ہاتھ اٹھا لئے کہ ہم مجبور ہیں اوپر سے ہم پر دباؤ آ گیا ہے۔تو یہ ایک ایسی منظم سازش ہے جس میں قوم شامل ہے یعنی حکومت اور مسلسل چلی آرہی ہے۔اس لئے اس کا وبال بھی پھر قومی ہوا کرتا ہے اور سندھ میں جو بے شمار آفتیں نازل ہوئیں ہیں اور ہوتی چلی جارہی ہیں اور زندگی کی حرمت اٹھ گئی ہے، انسانیت کی حرمت اٹھ گئی ہے۔بچوں، بوڑھوں ،عورتوں میں فرق باقی نہیں رہا۔ایک قیامت برپا ہے اور ساری قوم دہائی دے رہی ہے اور اس کا کچھ نہیں بن رہا۔یہ نتیجہ ہوا کرتا ہے ایک مسلسل منظم طور پر معصوموں کے اوپر ظلم کرنے کا اور ظلم کے خلاف اگر دل میں کراہت بھی پیدا ہوتی ہے تو چونکہ قومی طور پر ایک منظم سازش ہوتی ہے اس لئے کسی کو جرات نہیں ہوتی کہ وہ اس آواز کو بلند کرے یا کسی طرح بھی اس کی مدد کرے۔جتنے قتل ہوئے ہیں ان سب کے قاتلوں کا سب کو علم ہے لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور یہی وجہ ہے کہ ایسے قاتل بڑے مزے سے پھرتے ہیں ، دندناتے پھرتے ہیں اور چونکہ ان کو علم ہے کہ جماعت احمدیہ کی پالیسی تو نہیں کہنا چاہئے جماعت احمدیہ کی تعلیم یہ ہے کہ خدا کی ہر تعلیم کی پر کار بند جماعت ہے کہ جہاں ایک ملک میں منتظم قانون جاری ہے۔تمہیں قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہے۔اس لئے جماعت احمد یہ اس معاملے میں بالکل مجبور اور بے کسی بیٹھی ہے لیکن ہمارا خدا مجبور اور بے کس نہیں ہے اور وہ بہتر جانتا ہے کہ کیوں اور کب تک ان لوگوں کو اس طرح چھٹی ملے گی۔چھٹی اس قسم کی تو نہیں ہے جیسے عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ قاتل مجرم پوری طرح اپنے جرم کی پاداش سے الگ رہیں اور ان پر کوئی سزا وارد نہ ہو چونکہ قومی جرم ہے اس لئے قومی سزا تو ہمارے سامنے اتر رہی ہے آسمان سے اور زمین بھی