خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 971 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 971

خطبات طاہر جلد 13 971 خطبه جمعه فرمود و 23 دسمبر 1994ء افریقہ کے بہت سے ممالک اس طرح بیدار ہو چکے ہیں کہ اب وہ دندناتے ہوئے شیروں کی طرح بہت تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور نائیجیریا اس پہلو سے پیچھے ہے۔پس نائیجیریا کی جماعت کے لئے خصوصیت سے آپ کو دعا کی طرف متوجہ کرتا ہوں۔یہ وہ ملک ہے جسے مغربی افریقہ۔میں ایک غیر معمولی حیثیت حاصل ہے بدنصیبی سے بہت سے ایسے مسائل ہیں جن کی وجہ سے خدا کی عطا کردہ نعمتوں اور دولتوں کے باوجود یہ ملک بدحالی کی طرف جارہا ہے اور ان کا روپیہ جو بہت عرصے تک با قاعدہ اپنے مقام پر ٹھہرارہا مثلاً ایک پاؤنڈ میں 14،12 نیرے ہوا کرتے تھے ، 8 سے لے کر 14،12 تک تو مجھے یاد ہے، لیکن اونچ نیچ ہوتا رہامگر وہ گرا نہیں ہے اب کچھ ایسی آفات پڑی ہیں کہ تیزی کے ساتھ یہ تیرے بھی گر رہا ہے اور دن بدن مہنگائی بڑھتی چلی جارہی ہے۔ملک میں تیل کی افراط اور بہت دولت ہے لیکن جاتی کہاں ہے کچھ سمجھ نہیں آرہی کسی کو اس لحاظ سے یہ ملک بھی دعاؤں کا محتاج ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی اور اپنے مسائل کو سمجھنے کی تو فیق عطا فرمائے۔جماعت احمدیہ ہالینڈ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک بہت ہی ثابت قدم اور متوازن اور مضبوط قدموں سے آگے بڑھنے والی جماعت ہے۔گزشتہ چند سالوں میں ان کے امیر ھبتہ النور صاحب کو یہ مبارک ہو کہ انہوں نے بہت عمدگی کے ساتھ تبلیغ میں بھی جماعت کے قدم کو آگے بڑھایا ہے اور ساری ٹیمیں مل کر بڑی وفاداری کے ساتھ جماعت کی خدمت کر رہی ہیں، نئے نئے ایسے امکانات وہاں پیدا ہورہے ہیں کہ جماعت جو سینکڑوں کے چکر میں تھی اب ہزاروں میں داخل ہو جائے تو اس لئے ان کے لئے بھی بہت دعا کی ضرورت ہے۔واقعہ شہادت آپ نے سن لیا ہے اس کے متعلق میں سر دست صرف اتنا کہوں گا کہ سندھ میں اس دور میں جو 1984ء کے بعد شروع ہوا انفرادی طور پر احمد یوں کو شہید کرنے کے جو واقعات ہیں یہ مسلسل منظم سازش کے نتیجہ میں ہیں۔یہ ویسے واقعات نہیں ہیں جو 1953ء میں رونما ہوئے کہ علماء نے ہر طرف نفرتوں کے بیج بودیئے اور دشمنیاں ہوئیں اور بھڑکیں ،نہ ویسے واقعات ہیں جو 1974ء میں رونما ہوئے وہ بھی ایک اجتماعی سازش کے نتیجے میں تھے لیکن جب عوام مشتعل ہوئے ہیں تو وہ قتل جو احمدیوں کے ہوئے ہیں وہ با قاعدہ انفرادی طور پر سازش کا نتیجہ نہیں تھے۔بھڑ کے ہوئے عوام گلیوں میں آئے ہیں قتل و غارت ہوا ہے ، گھر جلائے گئے ، بچے مارے گئے، بوڑھے مارے گئے عورتیں