خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 963 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 963

خطبات طاہر جلد 13 963 خطبه جمعه فرمودہ 16 دسمبر 1994ء چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں مگر ان کو ہمیں سمجھانا ہے اور اس سلسلے میں جماعت پاکستان سے خصوصیت سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ مختلف ٹیمیں بنا ئیں مختلف غرباء کے گھر میں جائیں یہ دیکھیں کہ ان کے پاس روز مرہ پکانے کی ضرورتیں بھی مہیا ہیں کہ نہیں اور ان کے گھر کی اکانومی بنانے میں مددگار ہوں۔ہماری تمام ذیلی تنظیمیں بعض علاقے اپنے اپنے سپرد کر کے بعض جگہ چند ماڈل کے گھر بنائیں لیکن یہ لازم شرط ہے کہ روپے پیسے کے زائد استعمال کے بغیر ان کے بجٹ کے اندران کو صاف ستھرا رہنے کا سلیقہ اور اپنے بجٹ کو مناسب طور طریق پر اس طرح بنانے کا سلیقہ سکھانا ہے کہ دال ، کڑھی اور کئی قسم کی چیزیں سبزیاں ہیں ان کے شوربے وغیرہ وغیرہ یہ سب چیزیں سکھائی جائیں۔اب دال جب میں نے ان کو کہا کہ دال پر زور دیں یعنی دال کی مختلف قسمیں بھی سکھائیں اور بھی بہت سی چیزیں ہیں مگر مجھے یہ بتایا گیا کہ پاکستان میں تو دال اتنی مہنگی ہوگئی ہے کہ اب یہ امیروں کا نخرہ ہو گیا ہے تو میں نے کہا کہ آخر غریب کچھ تو کھاتے ہیں لیکن میں نے ان کو بتایا کہ آپ کا یہ اعتراض ویسے درست نہیں ہے کیونکہ دال میں ایک خوبی ہے کہ اسے جتنا پتلا کر لو پھر بھی مزیدار رہتی ہے۔میں نے خود بنگلہ دیش میں ایک غریب احمدی گھر میں چاول اور دال اس طرح کھائے ہیں کہ بالکل پتیلی دال تھی نام کا رنگ تھا لیکن نمک مرچ کی مناسبت کی وجہ سے ایک دو خوشبوئیں ڈالی ہوئی تھیں اس سے مزہ بہت اچھا تھا اور دال چاول کا اچھا یعنی مزیدار کھانا بن گیا تھا۔تو عقل استعمال ہونی چاہئے سلیقہ استعمال ہونا چاہئے۔ہم نے چیلنج یہ قبول کر لینا ہے اور اس پہینچ کا حق ادا کرنا ہے کہ دولت کی کمی کے باوجود روزمرہ کے گھروں میں کچھ بشاشت پیدا کریں۔روز مرہ کے غریبانہ گھروں کے دستور میں کچھ بشاشت کے سامان پیدا کر دیں۔کچھ سہولت پیدا کر دیں وہ پیسہ ضائع کرنے کی بجائے اسے اچھے مصرف میں لے کے آئیں۔جہاں تک دالوں کے مختلف پکانے کے طریق ہیں بعض تو آپ نے سنا ہوگا محاورہ ”یہ منہ اور مسور کی دال یعنی ایک نواب تھا یا بادشاہ، وہ کہانیوں میں تو مختلف نام آتے ہیں اس نے ایک اعلیٰ فن دار باور چی سے اس کی اپنی مرضی کا کھانا پکانے کو کہا کہ لا کے دکھاؤ پھر میں تمہیں نوکر رکھوں گا۔اپنی مرضی کا جو تمہیں پسند ہے پکا کر لاؤ۔اس نے مسور کی دال پکائی لیکن اس پر اتنا زیادہ دوسرا خرچ کر دیا۔کچھ زعفران، کچھ دوسری چیزیں ڈالیں کہ جب وہ اس نے پیش کی تو نواب صاحب نے ابھی