خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 90
خطبات طاہر جلد 13 90 خطبه جمعه فرموده 4 فروری 1994ء لئے لکھتے ہیں کہ ہمیں توفیق دے اللہ ، ہمت عطا کرے ۔ کئی ایسے ہیں جنہوں نے ہمارے سیٹلائیٹ میں چندے بھی دینے شروع کر دیئے اور ہندو ہیں۔ لیکن خطبے سنتے ہیں ہندو ہیں لیکن دعا کے لئے ہمیں لکھتے ہیں ۔ ہندو ہیں لیکن اگر کوئی مر جائے تو اس کی اخروی نجات کے لئے ہمیں لکھتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ سے جو تعلق انسان کی روح ، میں فطرت میں ودیعت کیا گیا ہے۔ وہ ایک ایسا دائمی سر چشمہ ہے۔ جس سے آپ ہمیشہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور پیاسی روحوں کو اس چشمے کی طرف متوجہ کر نے سے وہ روحیں طبعا اس کی طرف مائل ہونے پر آمادہ ہیں۔ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمُ قَالُوا بَلی انسان کی پیدائش سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، سب روحوں کو گویا کہ ایسے عالم میں اکٹھا کیا جس کا تصور ہمارے لئے ممکن نہیں ۔ بات صرف حقیقت میں یہ ہے۔ کہ ان روحوں کے خمیر میں داخل کر دی ہے یہ بات۔ یہ سوال و جواب ایسا سوال اور جواب ہے جو ان کی روحوں پر پرنٹ ہو گیا ہے، چھپ گیا ہے۔ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ۔ قَالُوا بَلی ان سب نے کہا ہاں کیوں نہیں، کیوں نہیں، پس وہ بلی کی آواز آج بھی روحوں سے آ سکتی ہے۔ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ کا پیغام تو ان کو خدا کی طرف سے دیں۔ پس دعوت الی اللہ میں آغاز ہی اس طرح ذکر سے ہونا چاہئے کہ وہ خالصہ ذکر ہو اور اس میں مذاہب کی تفریق کی بحثیں بعد میں آئیں، اگر وہ اٹھیں سب سے پہلے اللہ کی طرف بلائیں۔ اور اللہ کی طرف بلانے کے لئے آپ کے اندر خود ذکر کے پھل لگنے چاہئیں آپ کی ذات میں ، آپ کے اندر ذکر کے نتیجے میں پاک تبدیلیاں ہونی چاہئیں ، ذکر کے رنگ آپ کے اندر جاری ہوں ، ذکر کے نتیجے میں آپ سرسبز و شاداب ہوں، پھول کھلیں ، پھل لیگیں اور ایسے ثمر دار درخت بن جائیں جو صرف ثمر دار ہی نہ ہوں۔ بلکہ پر رونق ہوں، خوب صورت دکھائی دے۔ اس کے اندر کشش پائی جائے اور یہ کشش ذکر کا ایک طبعی نتیجہ ہے۔ ایک شاعر کہتا ہے کہ مٹی میں جو تو خوشبو د یکھ رہا ہے اس مٹی میں جو گلاب کے نیچے اس کے جڑوں کے آس پاس ہے، یہ نہ سمجھنا کہ مٹی کی خوشبو ہے۔ یہ گلاب کی خوشبو ہے جو مٹی میں آگئی ہے۔ پس ذکر الہی کی خوشبو تو گلاب کی خوشبو سے انگنت گنا زیادہ طاقت ور ہے۔ اگر آپ کو ذکر نصیب ہو جائے تو آپ کے اندر اللہ کی خوشبو آئے گی ۔ اللہ کے رنگ آپ میں جاری ہوں گے اس کے ذکر کے نتیجے میں اس کی صفات حسنہ آپ کی ذات میں جلوہ گر ہوں گی ۔ آپ کو ایسی عظیم کشش عطا ہو گی کہ دنیا کی طاقتوں