خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 928
خطبات طاہر جلد 13 928 خطبہ جمعہ فرمودہ 9 دسمبر 1994ء بات سچی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوا کرتیں دل اندھے ہوتے ہیں۔روشن آنکھ بظاہر دیکھتی رہتی ہے لیکن اس روشنی کا مفہوم دل کو سمجھ نہیں آتا۔پس اندھے دلوں کے اندھیرے زائل اور باطل نہیں ہوا کرتے وہ اسی طرح باقی رہتے ہیں۔پس اگر دل کو درست نہیں کریں گے تو ان نصائح کا کچھ بھی فائدہ نہیں۔اندھے دلوں پر یہ نصایح پڑتی ہیں لیکن روشنی نہیں پہنچا تیں اور بظا ہر آنکھ دیکھ بھی رہی ہے صاحب عقل، صاحب شعور لوگ دکھائی دیتے ہیں تعلیم یافتہ بھی ہوتے ہیں ان میں سے ، بے تعلیم بھی لیکن سمجھ دار اور پھر بھی نصیحت سنتے ہیں اور اثر نہیں پڑتا۔تو ان کی بات میں کر رہا ہوں ان کے لئے ہمیں دعا بھی کرنی چاہئے اور سمجھانے کی اس طرح کوشش کرنی چاہئے جیسے جھنجھوڑ جھنجھوڑ کے کسی کو جگایا جارہا ہو۔تعجب ہوتا ہے کہ بعض دفعہ اتنی مرتبہ نصائح کی جاتی ہیں۔بعض دفعہ بعض جماعتوں کو مخاطب کر کے کہ دیکھیں آپ میں یہ کمزوری ہے ٹھیک کریں ورنہ آپ کا ایمان ضائع ہو جائے گا اور آپ کو جو خدا نے توفیق دی ماحول میں تبدیلی پیدا کرنے کی ، اس سے محروم رہیں گے اور ان لوگوں کا گناہ بھی آپ کے سر ہوگا جو آپ کے اندرونی جھگڑوں کی وجہ سے احمدیت کے فیض سے محروم رہ گئے۔بہت لوگ سنتے ہیں اور عمل کرتے ہیں۔کچھ ایسے ہیں جو گانٹھوں کی طرح پڑے رہتے ہیں، کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔اس وقت قرآن کریم کی اس آیت کا مفہوم سمجھ آتا ہے کہ آنکھیں اندھیں نہیں ہوا کرتیں ، دل اندھے ہو جاتے ہیں۔پس اللہ ہی ہے جواند ھے دلوں کو بھی توفیق بخش سکتا ہے کہ جو کچھ وہ دیکھیں وہ دل کی آنکھ سے بھی دیکھ رہے ہوں اور جب دل کی آنکھ سے محمد مصطفی میلے کے نور کو دیکھیں تو لازماً انسانی دلوں میں پاک تبدیلیاں پیدا ہوں گی۔حضرت محمد رسول اللہ اللہ نے قرض سے متعلق بھی مختلف پہلوؤں سے نصیحت فرمائی ہے۔اب بہت سے جھگڑے ایسے ہیں جن کا قرضوں سے تعلق ہے اور قرضوں کا جو معاملہ ہے وہ سب سے زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے کیونکہ نیتیں لکھی نہیں جاتیں اور ہر شخص اپنی نیتوں کو مختلف بیان کرتا ہے۔مثلاً بعض لوگ کہتے ہیں اس نے ہم سے قرض لیا تھا وہ واپس نہیں کر رہا اور جب بات ٹولی جاتی ہے تو پتا چلتا ہے اس قرض کے ساتھ منافع کے نام پر کچھ سود بھی وابستہ تھا اور جب سود ساتھ شامل ہو گیا تو اس کو قرض کہنا ہی نا جائز ہے۔یہ تو فاسد سودا ہے اور پھر جب تحقیق مزید کی جاتی ہے تو بعض دفعہ پتا چلتا ہے کہ تین لاکھ قرض لیا تھا ، پینتالیس ہزار واپس کر بیٹھا ہے، مطالبہ تین لاکھ اور کچھ اور کا