خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 927
خطبات طاہر جلد 13 927 خطبہ جمعہ فرموده 9 دسمبر 1994ء اصلاح معاشرہ سب سے ضروری ہے۔اعلیٰ حسین اخلاق ہی معاشرے کا حسن ہیں۔(خطبه جمعه فرموده 9 دسمبر 1994ء بمقام مسجد فضل لندن برطانیہ ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔حضرت اقدس محمد مصطفی عمل اللہ کے ارشادات کی روشنی میں جماعت کی تربیت کی جو میں کوشش کر رہا ہوں اسی سلسلے کا آج کا خطبہ بھی ہے اور بعض احادیث کے حوالے سے معاشرے میں موجود خرابیوں کو دور کرنے کی سعی کی جائے گی۔اللہ دلوں کو توفیق بخشے کہ ان عظیم نصائح کو جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے سینے میں پھوٹیں اور پہلے اس سے نور بن کر آسمان سے اتری تھیں۔ان نصائح کی روشنی میں اپنے سینوں کی ظلمات کو دور کرسکیں۔یہ جنگ روشنی اور اندھیرے کی جنگ ہے اور قرآن کریم اس مضمون کو اس طرح بیان فرماتا ہے جہاں فرمایا جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ وہاں یہ مضمون ہے کہ جب صداقت کی روشنی آتی ہے تو جھوٹ کے اندھیرے بھاگ جاتے ہیں۔اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا ان اندھیروں کے مقدر میں بھاگنے کے سوا ہے ہی کچھ نہیں۔لیکن اندھیرے موجود ہیں نور آ جائے تو سوال یہ ہے کہ جھوٹا کون ہے؟ وہ سینے جھوٹے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے نور مصطفوی کو سینے میں داخل تو کیا تھا مگر اندھیرے باقی رہے۔لا زم وہ لوگ جھوٹے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمارے اندر قرآن کی نصائح داخل ہوئیں ، حدیث کی نصائح داخل ہوئیں اور پھر بھی وہ اسی طرح کے اسی طرح رہے جیسے پہلے تھے۔پس اصل میں وَلكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ والى