خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 897 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 897

خطبات طاہر جلد 13 897 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 نومبر 1994ء کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔فرمایا اگر کوئی اچھا لگتا ہے تو اس خوبی میں اس سے آگے نکلنے کی کوشش کرو یہ منع نہیں ہے ، یہ رشک کی پیداوار ہے۔حسد کی پیداوار یہ ہے کہ اس کی خوبی کو برائی میں تبدیل کرنے کی کوشش کرو۔خواہ سچ ہو یا جھوٹ ہو اور مقصد دونوں صورتوں میں اوپر آنا ہے۔اب موازنہ کر کے دیکھیں دونوں صورتوں میں آخری نتیجے کی نیت ایک ہی ہے کہ میں اوپر ہو جاؤں اس سے۔فرمایا ایک طریقہ ایسا ہے جس سے تمہاری فطرت کی پیاس بجھے گی اور اچھے طریق پر بجھے گی اور وہ ہے اونچے بے شک ہو، اونچے ہونے سے منع نہیں فرمایا گیا۔کہیں بھی انسانی فطرت کے طبعی جذبات کو غلط قرار نہیں دیا کیونکہ یہ خدا کی پیداوار ہے خدا نے پیدا کیا ہے ان چیزوں کو ان کے برمحل استعمال کا نام اعلیٰ خلق ہے، ان کے برمحل استعمال کا نام نیکی ہے ہمنا تو ہے کہ میں اونچا ہوں بھائی سے لیکن اسی کی نیکی میں اس کو شکست دے کر اعلیٰ درجے کی نیکی حاصل کر کے بے شک آگے بڑھ جاؤ لیکن اس اچھائی کو برائی میں تبدیل کر کے یا ایسی برائی اس میں ڈھونڈ کر جو اس میں ہے ہی نہیں اور وہ بیان کر کے یا برائی ڈھونڈ کر جو اس میں ہے پھر اس کی تشہیر کر کے جو کام تم کرو گے وہ حسد کے نتیجے میں ہے اور قرآن اس کی اجازت نہیں دیتا۔پھر فرمایا حسد نہ کرو، دشمنی نہ رکھو کیونکہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے حسد پہلے بھی کھول کر بیان کر چکا ہوں۔حسد بنیادی طور پر کسی دشمنی کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے اور یہ مزید پہچان ہے کہ ہمارے تعلقات کیسے ہیں۔اگر کسی کی خوبی ، اس کو خدا کی کوئی عطا کسی انسان کو تکلیف دیتی ہے تو اس کے نتیجہ میں حسد تو پیدا ہوگا مگر حسد پہچان ہے دشمنی کی ، ایسا شخص اس کا بھائی نہیں ہے ، بھائی کہلاتا بھی ہے تو بھائی والی محبت دل میں موجود نہیں بلکہ بنیادی طور پر اس سے کچھ عداوت ہے۔تو فورافر مایا حسد نہ کرو، دشمنی نہ رکھو کیونکہ آنحضور ﷺ سے بڑھ کر انسانی نفسیات کا ماہر نہ کبھی پیدا ہوا نہ کبھی ہو سکتا ہے۔انسان ورطۂ حیرت میں ڈوب جاتا ہے جب آپ کسی چھوٹی چھوٹی پاک نصیحتوں پر غور کرتا ہے کہ کیسے گہرے گہرے نفسیات کے نکات ان میں موجود ہیں۔بے رخی نہ برتو ، دشمنی تو اس سے ہے لیکن اس کے اظہار مختلف ہیں اور کچھ نہیں تو ایک اظہار یہ بھی فرمایا کہ انسان اس سے بے رخی برتنے لگ جاتا ہے اور بے رخی کمزور سے بھی برتی جاتی ہے اور اپنے سے بڑے سے بھی برتی جاتی ہے۔یہ وہ نکتہ ہے جسے آنحضور یہ سمجھار ہیں اور اسے یوں سمجھنا چاہئے۔اس سارے تعلق میں آپ کے کسی اچھے سے تعلقات کی