خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 891
خطبات طاہر جلد 13 891 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 /نومبر 1994ء پہنچائے۔تو لفظ تو دونوں جگہ امانت استعمال ہوا ہے مگر ان میں مفہوم بدل جاتا ہے۔عام طور پر جو روز مرہ کی مجلسوں میں ہونے والی باتیں ہیں وہ امانت ہی رہتی ہیں اور پوچھے بغیر آگے نہیں چلانی چاہئیں۔بعض دفعہ میں نے دیکھا ہے ہمارے گھروں میں بھی جب کھانے وغیرہ پر بات ہو رہی ہے تو بعض وہاں موجود لوگ وہ آگے بات کر دیتے ہیں اور بعض دفعہ وہ باتیں بگڑی ہوئی شکل میں پاکستان سے ٹکرا کر گنبد کی آواز بن کر مجھ تک پہنچتی ہیں۔میں حیران ہو کے سوچتا ہوں کہ میں نے یہ کب کہا تھا تو پتا چلا کہ کھانے کی بے تکلف گفتگو میں بعض ایسی باتیں کہیں جو مناسب نہیں تھیں کہ ان کا اظہار پبلک میں ہو کیونکہ بعض ایسے لوگ اس میں ملوث تھے جن کا جماعت سے تعلق نہیں اور ان کی باتیں ان سے پوچھے بغیر مجھے کوئی حق نہیں تھا کہ میں عوام الناس میں پہنچا دوں جس سے ہو سکتا ہے کہ وہ سبکی محسوس کریں۔اس قسم کی چیز تھی، کوئی برائی نہیں تھی کوئی چغلی نہیں تھی لیکن امانت تھی اور سننے والوں نے سنا اور آگے پہنچا دیا اور پہنچاتے وقت بگاڑ پیدا کیا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جو باتیں سن کر یہ چسکا رکھتا ہے کہ میں آگے بیان کروں اس میں عموماً دو مونہی پائی جاتی ہے اور یہ مزاج کا خاصہ ہے، فطرتا ایسے شخص میں دو مونہی پائی جاتی ہے تو وہ چونکہ چسکے کی خاطر بات بیان کرنا چاہتا ہے اس لئے اس میں مبالغہ آمیزی بھی کرتا ہے بڑھا ملا دیتے ہیں کچھ زیب داستاں کے لئے جو بات مجھ سے سنی ہے وہ شاید اتنی زیادہ چسکے والی نہ ہو تو انہوں نے کہا کیوں نہ تھوڑا سا اور اضافہ کردوں۔عجیب و غریب لطیفے بنے وہ کہ میں حیران رہ گیا۔پاکستان سے اطلاع ملی کہ فلاں فلاں لوگ ربوہ میں یہ باتیں بیان کرتے پھر رہے ہیں کہ آپ کے فلاں کے ساتھ تعلقات قائم ہوئے، فلاں سے یہ آپس میں عہد و پیمان ہوئے حالانکہ کوئی دور کی بھی سچائی ان باتوں میں نہیں تھی یعنی ان عہد و پیمان میں جن کے ذکر ہورہے تھے۔مگر بنیاد سچی تھی کہ بنیادی طور پر ایک واقعہ ہوا تھا جس کو غلط طور پر پہنچایا گیا۔تو لوگ جو خاموشی سے کرتے ہیں ان کی نیت میں ایک فتنہ اور خرابی ضرور ہوتی ہے ورنہ ایسے موقع پر پوچھ لینا چاہئے۔جب آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ امانت تو پوچھنا چاہئے اور بعض دفعہ اس شخص تک بات پہنچاتے ہیں جس کے متعلق ذکر کیا ہے، ذکر سچا ہے میں اور رنگ میں اس کی اصلاح کی کوشش کا ارادہ رکھتا ہوں۔میری نیت یہ ہوتی ہے کہ با قاعدہ نظام