خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 890
خطبات طاہر جلد 13 890 خطبه جمعه فرمود و 25 /نومبر 1994ء حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ گویا کسی کی طرف تیر پھینکا اس کے سینے کا نشانہ باندھا لیکن وہ اس کو لگا نہیں اس کے قدموں میں جا پڑا۔تو ایک شخص نے سچائی کے نام پر وہ تیر اٹھایا اور اس کے سینے میں گھونپ دیا کہ نشانہ تو یہاں کا تھا اس تیر کو یہاں گرنے کا کیا حق تھا۔تو وہ بھی قاتل ہے بلکہ زیادہ مکروہ قاتل ہے۔پہلے نے تو شاید کسی غصے کی وجہ سے خواہ جائز تھی یا نا جائز بھی ایک طبعی جوش سے مجبور ہوکر یہ حرکت کی ہے اس ظالم نے تو بغیر کسی جواز کے یہ کہ کر ایک معصوم شخص کی جان لی ہے چونکہ اس کے متعلق بات کی ہوئی تھی اس لئے میرا فرض ہے کہ میں اس کو پہنچاؤں۔پس آنحضرت ﷺ نے ساری باتیں خوب کھول دی ہیں۔سچ بہت اچھی بات ہے مگر کہاں بیان ہونا چاہئے۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ جو باتیں میں تم سے کہتا ہوں اور وہ ایسی باتیں ہیں جن کا سوسائٹی سے تعلق ہے وہ اچھی باتیں ہیں اور سوسائٹی کی امانت ہیں اس لئے تمہارا فرض ہے کہ وہ امانت آگے پہنچاؤ۔اب یہ امانت کا ایک مفہوم ہے اور وہ یہ کہ آپ نے جو بات مجلس میں سنی ہے بغیر اس شخص کی اجازت کے جس نے وہ بات کہی ہو آگے نہیں پہنچانی۔یہ ایک دوسرا مضمون ہے جو آنحضرت ﷺ نے امانت کے حوالے سے بیان فرمایا ہے۔فرمایا الـمـجـالس بالامانة مجالس کے اندر ایک امانت کا مضمون داخل ہے خواہ کہا جائے یا نہ کہا جائے۔وہ حدیث جس کی طرف میں اشارہ کر رہا ہوں وہ یہ ہے فرمایا: عـن جـابـر بـن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم قال اذا حدث الرجل حديثاثم التفت فهى امانة ( ترندى كتاب البر والصلة ) حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص کوئی بات بیان کرتا ہے اور پھر اس کی توجہ ہٹ کر کسی اور طرف ہو جاتی ہے اور وہ بات وہیں ختم ہوئی تو اتنی بات جو پہلے کر چکا تھا جس کا اس نے نہ نتیجہ نکالا ، نہ یہ بتایا کہ لوگوں کے لئے ہے یا صرف تم تک رہنی چاہئے وہ تمہارے پاس امانت پڑی ہوئی ہے اور جس کی امانت ہے اس سے پوچھے بغیر تم اس کو آگے بیان نہیں کر سکتے۔تو یہ ایک عمومی اصول ہے اپنے متعلق۔یہ فرمایا کہ میں جو بات کرتا ہوں تمہاری بھلائی کے لئے کرتا ہوں ، تمہاری خیر کے لئے کرتا ہوں، اس لئے یہ قوم کی امانت بن جاتی ہے اور مجھ سنو فليبلغ الشاهد الغائب وہ جو حاضر ہے وہ اس بات کو اٹھائے اور جو غائب ہےاس تک