خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 885 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 885

خطبات طاہر جلد 13 885 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 نومبر 1994ء ایک شخص کا ذکر آیا ہے اور اس کو اگر دوسروں میں بیان کیا جائے تو اس شخص کے خلاف دلوں میں نفرت پھیلے گی تو اس کو دوسروں میں بیان کرنا نا جائز ، اس تک بات پہنچانا بھی ناجائز۔اور اگر کسی مقصد، مجبوری سے بات کرنی ہو تو لازم ہے کہ اس سے اجازت لی جائے جس نے ایک مجلس میں یہ بات کی تھی۔اگر ہم پوری طرح اس اصول پر کار بند ہو جائیں تو غیبت کے سارے رستے بند ہو جاتے ہیں۔مگر بعض لوگ اتنے بے احتیاط ہوتے ہیں کہ مجھ سے ملاقات میں جو امانت کے تقاضے ہیں وہ بھی پورے نہیں کرتے بلکہ ان میں بگاڑ پیدا کر دیتے ہیں۔کئی لوگ جن کے جھگڑے ہیں خاوندوں کے بیویوں سے، بیویوں کے خاوندوں سے، خاندانوں کے آپس میں۔وہ ملاقات کے وقت یہ بات چھیڑتے ہیں میں ان کو بار بار سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ یہ ذاتی ملاقات کا وقت آپس میں محبت اور پیار کی کھلی کھلی باتیں کرنے کا وقت ہے، یہ جھگڑوں کا وقت نہیں ہے اس کے لئے الگ نظام مقرر ہے لیکن وہ باز ہی نہیں آتے۔زبر دستی اپنے دل کا غیظ ابال کر میرے دل میں داخل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔کئی دفعہ میں نے دیکھا میں ان کو آخر کہتا ہوں کہ دیکھو جو تم نقشہ کھینچ رہے ہو اگر یہ درست ہیں تو تم نے بڑی جہالت کی ہے جو وہاں جا کر گرے ہو تم کہتے ہو اتنا ذلیل خاندان ہے، ایسا گیا گزرا ہے کہ جو باتیں تم بیان کر رہے ہو وہ تو اتنی کمینی ہیں کہ پھر تم نے اپنی بیٹی کو پھینکا کیوں وہاں۔یا اپنے بیٹے کو اس گھر کے سپر د کیوں کیا۔یہ رکے سپرد ایک الزامی جواب ہوتا ہے۔بعض لوگ اسے لے کر چلتے ہیں اور کہتے ہیں لو جی حضرت خلیفہ اسیح نے فرما دیا ہے کہ بڑا کمینہ خاندان ہے، بڑے ذلیل لوگ ہیں۔ان میں تم جا کر گرے کہاں۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔پہلے وہ زبر دستی مجھ پر ایک بات ٹھونستے ہیں پھر اس کا منطقی نتیجہ نکال کر، ان کے غلط انداز کو دکھانے کی خاطر یہ ایک تمثیلاً بات کرتا ہوں تو آگے پہنچا دیتے ہیں۔اب یہ بتائیں یہ امانت کہاں رہی اور وہ جو خلیفہ وقت سے تعلق کے تقاضے ہیں ان کو کیسی ٹھوکر ماری گئی ہے یہاں اور جو بے تکلفی سے پیار کے خاندانی ماحول میں ان سے باتیں ہورہی ہیں ان کو سمجھایا جا رہا ہے۔نہیں سمجھتے تو انہی کی منطق کو اٹھا کر ان کے سامنے کھڑا کیا جارہا ہے اس کو غلط رنگ دے کر اگر جماعت میں پھیلا دیں تو کتنے بدنتائج اس کے پیدا ہوں گے۔بعض لوگ ان حوالوں کو لے کر قضاء تک جا پہنچے ہیں۔چنانچہ مجھے ایک دفعہ صدر مجلس قضاء کا خط آیا کہ حضور کے حوالے سے یہ بات کہی جا رہی ہے۔ثابت