خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 884
خطبات طاہر جلد 13 884 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 نومبر 1994ء مخلصین کو ہو کیا گیا ہے۔بعض جماعتوں میں مرد بھی غیبت کر رہے ہیں عورتیں بھی غیبت کر رہی ہیں یوں لگتا ہے کہ گوشت خوروں کی ایسی جماعت ہے جسے صحت مند حلال گوشت میں مزہ نہیں ملتا جتنا مردہ گوشت میں ملتا ہے اور وہ بھی انسانی مردہ گوشت مل جائے تو اور کیا چاہئے۔کیونکہ کہتے ہیں شیر کو جس کو انسان کا خون منہ کو لگ جائے اسے کوئی اور جانور پسند ہی نہیں رہتا تو اس پہلو سے بھی رسول اکرم ﷺ کی مثال بہت گہرائی رکھتی ہے۔انسانی مردہ کھانے کی عادت پڑ گئی جس کو اس سے یہ عادت چھڑانا بڑا مشکل ہے اور اس گوشت میں مزہ ہی بڑا ہے۔انسان کی غیبت میں جو مزہ ہے نا جن کا ذوق بگڑا ہواس ذوق کو بدلنا ، وہ مزہ ان کے منہ سے چھینا بڑا مشکل کام ہے تو وہاں یہ ہے۔اب میں امریکہ کی بدنامی کے طور پر نہیں کر رہا۔میں جانتا ہوں پاکستان میں بھی بہت سی جماعتوں میں ایسی باتیں پائی جاتی ہیں، جرمنی میں بھی پائی جاتی ہیں، انگلستان میں بھی پائی جاتی ہیں۔مگر میں نے مثال دی تھی ایک تازہ سفر کی یادداشت کے طور پر اور وہ لوگ جو جانتے ہیں کہ میں کن کی باتیں کر رہا ہوں ان کو استغفار کرنا چاہئے اور اپنے اپنے دائرے میں یہ جہاد شروع کرنا چاہئے کہ غیبت نہیں کرنی۔بعض دفعہ غیبت کی بجائے مجلس کی امانت کا حق نہ رکھا جائے تو وہ بھی غیبت بن جاتی ہے۔ہم جب آپس میں ملتے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ باتیں کرتے ہیں تو بعض دفعہ ایک شخص غیبت کی نیت سے نہیں بلکہ بعض حوالوں کی وجہ سے ایک شخص کا ذکر کر دیتا ہے جسے سب جانتے ہیں اس کی کوئی چھپی ہوئی بدی بیان نہیں کی جاتی جس کا ان کو علم نہ ہو بلکہ کسی گفتگو کے حوالے سے از خود یہ بات جاری ہو جاتی ہے۔اگر کوئی شخص اس بات کو اٹھائے اور باہر بیان کر دے تو یہ امانت میں خیانت ہے کیونکہ مجالس کے متعلق آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ یہ امانتیں ہیں اور ان کی بات بغیر اجازت کے بغیر حق کے باہر کرنا ایک گناہ ہے اور یہ بھی ایک ایسی چیز ہے جس کے متعلق بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔لیکن میں اصول بتا دیتا ہوں کہ کہاں امانت ہے اور کہاں ایک عوامی حق ہے کہ آپ یہ باتیں آگے پہنچائیں۔جہاں ایک ایسی نصیحت ہے جس کا بنی نوع انسان کی بہتری سے تعلق ہے، بھلائی سے تعلق ہے۔ایسی بات ہے جس کو سن کر ایمان تازہ ہوتا ہے تو یہ وہ امانت نہیں ہے جسے آپ پوچھے بغیر آگے بیان نہیں کر سکتے۔اس کے متعلق آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شاہد ہے وہ غائب کو باتیں بیان کرے (مسلم کتاب القسامہ) کیونکہ اچھی باتیں ہیں اور ان کے نتیجے میں خیر پھیلتی ہے مگر اگر اس مجلس میں کسی