خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 80
خطبات طاہر جلد 13 80 خطبه جمعه فرموده 4 فروری 1994ء غیر معمولی ان میں تو کل ہے اور اس قدر دین کی غیرت ہے کہ تھوڑے ہوتے ہوئے شیروں کی طرح سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جب پچھلے دنوں مجلس تحفظ ختم نبوت والوں نے اور احراریوں اور نے کھلے عام دھمکیاں دیں کہ ہم چہار بخشی بازار مسجد کو گرانے کے لئے آ رہے ہیں اور لاکھوں کا مجمع حملہ آور ہو گا۔ اس کے مقابل پر یہ ہر طرف سے چار سو کی ایک چھوٹی سی نفری اکٹھی ہوئی ۔ ان سب نے عہد کیا کہ تمام جان دے دیں گے۔ ایک بھی پیٹھ نہیں دکھائے گا۔ اور ہنستے ہوئے کلمہ پڑھتے ہوئے جان دیں گے اور فخر کریں گے۔ اور ان کے عزیزوں نے بھی بڑی شان کے ساتھ ان کو بھیجا ان کی مائیں راضی تھیں ان کی بہنیں راضی تھیں ان کی بیٹیاں راضی تھیں اگر بچے تھے تو ان کے سب عزیز پوری طرح موت کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ رہے تھے مگر اس موت کو جس کا نام اللہ نے زندگی رکھا ہے۔ اس موت کو جس کا نام خدا نے ہمیشہ کی زندگی رکھا ہے، اور ایسی زندگی جو مرنے کے معا بعد عطا ہوتی ہے۔ ایک زندگی تو ایسی ہے جو مرنے کے لمبے عرصے کے بعد رفتہ رفتہ پرورش پاتی ہے۔ پس یہی ایک بڑا فرق ہے شہادت کی زندگی اور دوسری زندگی میں جو مرنے کے بعد لا زما سب کو عطا ہو گی۔ قرآن کریم نے فرمایا ہے بَلْ أَحْيَا وہ زندہ ہیں۔ وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ (البقرہ:155) تمہیں پتا نہیں ہو گا تم سمجھ نہیں سکتے کیسے زندہ کئے گئے ہیں۔ اسی طرح حضرت اقدس محمد مصطفی نے جو بعض شہداء کو جنت میں پھرتے دیکھا۔ ایک لنگڑے شہید تھے ان کے متعلق فرمایا علیہ صلى الله کہ وہ جنت میں پھر کتے پھر رہا تھا اور خدا اس سے بہت راضی تھا۔ یہ جو واقعہ سنا اس کے بیٹے نے ، تو بیٹے کے سب غم بھول گئے ۔ اس نے کہا کہ اس سے کیا بڑی سعادت ہو سکتی ہے۔ تو جن لوگوں کو خدا زندہ کہہ دے وہ کیسے مر سکتے ہیں۔ تو ایسا نظام جاری ہے کہ شہید کی زندگی معا بعد اسی طرح جاری رہتی ہے جیسے پہلے تھی یعنی اس کے شعور کو اللہ تعالیٰ مرنے نہیں دیتا اس کو مٹنے نہیں دیتا اور یہ بہت عظیم سعادت ہے۔ پس بنگلہ دیش کی جماعت نے اس سعادت کو نہ صرف سمجھا بلکہ اس کو بڑی خوشی سے سینے سے لگایا اسے قبول کیا اور اس کے لئے تیار رہے اور ہمیں اس بارے میں ادنیٰ بھی شک نہیں کہ وہ اپنے دعوئی میں سچے تھے البتہ دعا یہی تھی کہ اے اللہ ان کو اسی زندگی میں شہادت کی سعادت عطا فرمادے تو تجھ سے یہ بھی تو بعید نہیں کیونکہ ان کو اگر اپنی جانوں کی ضرورت نہیں تیری راہ میں تو ہمیں تو ان کی