خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 78 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 78

خطبات طاہر جلد 13 78 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 /جنوری 1994ء علامہ اقبال کے چچا تھے یا تایا تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ابتدائی بیعت کرنے والوں میں سے تھے اور اللہ کے فضل سے بہت مخلص صحابی تھے۔شیخ اعجاز احمد صاحب کو آپ کے ساتھ بیعت کرنے کی توفیق نہیں ملی تو غالبا والدہ یا دیگر رشتہ داروں کا اثر ہوگا۔لیکن آپ نے 1931 ء میں حضرت مصلح موعودؓ کے ہاتھ پر بیعت کی لیکن اللہ کے فضل کے ساتھ بہت ہی پاکباز انسان ، بہت ہی مرنجاں مرنج طبیعت، مہمان نواز ، خوش اخلاق، اعلیٰ پاکیزہ مجلسیں لگانے والے تھے۔چودھری ظفر اللہ خان صاحب کی صحبت کا ان میں کافی رنگ پایا جاتا تھا۔چودھری صاحب کو ان سے بہت پیار تھا۔آپ نے تحدیث نعمت میں بھی ان کا ذکر کیا ہے۔ان کی ایک کتاب مظلوم اقبال“ کے نام سے شائع ہوئی تھی۔جب علامہ اقبال کے متعلق بہت سے لکھنے والوں نے اس نئے دور میں جھوٹی باتیں پھیلانی شروع کیں کہ ان کا احمدیت سے کوئی تعلق کبھی نہیں رہا اور خاندان میں یہ بات نہیں تھی اور احمدیت کے خلاف ایسے ایسے معاندانہ انہوں نے کام کئے وغیرہ وغیرہ تو شیخ صاحب نے چند سال پہلے اس کے جواب میں باوجود بڑھاپے اور کمزوری کے بہت اچھی کتاب لکھی اور کہا کہ میں گھر والا ہوں۔میں جانتا ہوں کہ ہمارے گھر میں کیا ہوتا تھا۔کس طرح انہوں نے اپنے بیٹے کو عقیدت کے ساتھ قادیان سکول میں پڑھنے کے لئے بھجوایا تھا کہ باقی دنیا میں دوسرے سکولوں میں بے دینی پائی جاتی ہے وہیں سے دین سیکھے گا، تو اگر یہ شخص آغاز ہی سے احمدیت کے خلاف ہوتا تو یہ کام کیوں کرتا وہ کتاب بھی پڑھنے کے لائق ہے جس کسی کو موقع ملے تو اس کتاب کا مطالعہ کرے۔بہت اچھی کتاب ہے۔عبدالعزیز بر ما مجلس انصار اللہ کے آڈیٹر تھے۔1978ء میں بیعت کی تھی مگر بہت جلد جلد اخلاص میں ترقی کی اور شدید مخالفت میں ایذاء رسانیوں کے باوجود بڑے اخلاص سے احمدیت پر قائم رہے ان کے لئے بھی نماز جنازہ میں دعا کی جائے گی۔حمیدہ منصور صاحبہ، طاہرہ مسعود حیات صاحبہ، ہمارے لندن کی جماعت کے مسعود حیات صاحب کو آپ جانتے ہیں حمیدہ منصور صاحبہ ان کی بیگم طاہرہ کی بہن تھیں اور جرمنی میں وفات پاگئی ہیں۔